لاہور:کاہنہ میں ٹیوشن سینٹر کے مالک 2 بھائی زیرحراست
ریحان اور فیضان سے واقعے کے مختلف پہلوؤں پر تفتیش کی جا رہی ہے ،غفلت برتنے کے شبے میں مزید 5 افراد سے بھی تحقیقات جاری ، پولیس
فوٹو سوشل مٰیڈیا
لاہور: کاہنہ میں پیش آنے والے ٹیوشن سینٹر کے واقعے کے سلسلے میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ پنجاب پولیس نے ٹیوشن سینٹر کے مالک دو بھائیوں کو حراست میں لے لیا۔
نجی ٹی کے مطابق زیر حراست افراد میں ریحان اور فیضان شامل ہیں، جن سے واقعے کے مختلف پہلوؤں پر تفتیش کی جا رہی ہے۔
ڈی آئی جی آپریشنز کا کہنا ہے کہ واقعے میں غفلت برتنے کے شبے میں مزید 5 افراد سے بھی تحقیقات جاری ہیں، جبکہ ذمہ داروں کے تعین کے لیے شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں۔
ابتدائی تحقیقات کے مطابق ٹیوشن سینٹر کی چھت پر تعمیراتی کام جاری تھا، تاہم واقعے کی اصل وجوہات جاننے کے لیے تفتیش کا عمل جاری ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ذمہ دار افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
یاد رہے کاہنہ میں ٹیوشن پڑھنے کے دوران گھر کی چھت گرنے سے متعدد بچے دب گئے، ملبے سے 20 بچوں کو نکالا گیا، 14 جاں بحق ہوگئے، 6 کی حالت خطرے سے باہر ہے، ملبے میں مزید 10 سے 15 بچوں کی موجودگی کا خدشہ ہے۔
کاہنہ کے دیہاتی علاقے میں گھر میں کسی نے ٹیوشن سینٹر کھولا ہوا تھا، جہاں روزانہ 35 کے قریب بچے پڑھنے آتے تھے، اس گھر کی دھماکے سے چھت گر گئی جو کہ ٹی آر گارڈر کی بنی ہوئی تھی۔
محلے داروں نے فوری طور پر امدادی اداروں کو فون کیا، پولیس اور امدادی ادارے پہنچ گئے، ساتھ اہل محلہ بھی ہیں، فوری طور پر کئی بچوں کو نکال لیا گیا جبکہ بقیہ کی تلاش جاری ہے۔
امدادی ادارے کے مطابق نکالے گئے بچوں کی سانسیں بند ہورہی تھیں امدادی کارکنان نے فوری طور پر بچوں کے منہ اور ناک سے مٹی نکالی تاکہ سانسیں بحال ہوسکیں اور انہیں ہسپتال روانہ کردیا۔
نکالے گئے کئی بچوں کی حالت نازک ہے، کئی زخمی ہیں، نکالے گئے کئی بچوں کی نبض بھی نہیں چل رہی تھی اس لیے ہلاکتوں کا خدشہ ہے۔اطلاعات سامنے آئی ہیں کہ گھر کی چھت پر مٹی کی بھی بڑی مقدار موجود تھی، چھت گرنے پر بچے مٹی میں دب گئے۔