امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ کے خاتمے سے متعلق جاری مذاکرات اور اہم تجارتی گزرگاہ آبنائے ہرمز تک رسائی کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ جبکہ ایشیائی اسٹاک مارکیٹوں میں ملا جلا رجحان دیکھنے میں آیا۔
ابتدائی کاروبار کے دوران برینٹ خام تیل کی قیمت 33 سینٹ، یعنی 0.45 فیصد اضافے کے ساتھ 73.28 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی، جبکہ ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ خام تیل 34 سینٹ یا 0.49 فیصد اضافے کے بعد 69.84 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہوتا رہا۔
تیل مارکیٹ کے تجزیاتی ادارے وانڈا انسائٹس کی بانی وندانا ہری نے بتایا کہ آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت بتدریج بحال ہو رہی ہے، تاہم یہ عمل غیر ہموار، غیر متوقع اور مکمل طور پر شفاف نہیں۔ ان کے مطابق جب تک واشنگٹن اور تہران کے درمیان کوئی نیا اتفاق رائے سامنے نہیں آتا، مارکیٹ ممکنہ طور پر خام تیل کی قیمتوں میں مسلسل کمی کا رجحان اختیار کرنے سے پہلے پائیدار امن اور استحکام کا انتظار کرے گی۔
ادھر ایشیائی حصص بازاروں میں ملا جلا رجحان رہا۔ جاپان کے نکی 225 انڈیکس میں 0.6 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ آسٹریلیا کے S&P/ASX 200 میں 0.4 فیصد اور جنوبی کوریا کے کوسپی انڈیکس میں 1.8 فیصد کمی دیکھی گئی۔
چین کا شنگھائی کمپوزٹ انڈیکس معمولی اضافے کے ساتھ 0.1 فیصد اوپر رہا، جبکہ ہانگ کانگ کی اسٹاک مارکیٹ تعطیل کے باعث بند رہی۔
کے سی ایم ٹریڈ کے چیف مارکیٹ تجزیہ کار ٹم واٹرر نے کہا کہ اگرچہ تیل کی منڈی اس وقت رسد کی بتدریج بحالی کو مدنظر رکھتے ہوئے قیمتیں طے کر رہی ہے، تاہم آبنائے ہرمز سے بحری آمدورفت ابھی تک جنگ سے پہلے کی سطح پر واپس نہیں آ سکی ہے۔