کویت اورسعودیہ سے امریکی فوج اسرائیل منتقل کرنے پرغور۔وجہ کیا بنی؟
امریکہ سعودی تعلقات میں دراڑ، مارکو روبیو خلیجی ممالک کے حالیہ دورے میں سعودی عرب نہیں گئے۔وال سٹریٹ جرنل
فائل فوٹو
سعودی عرب نے امریکی فوج کو اپنے اڈوں اور فضائی حدود استعمال کرنے سے انکار کر دیا جس کی وجہ سے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا اسٹریٹ آف ہرمز کھولنے کا فوجی آپریشن ’’پروجیکٹ فریڈم‘‘ فوری طور پر ختم کرنا پڑا۔ اس واقعے نے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں نمایاں تناؤ پیدا کر دیا ہے۔اب امریکی فوج کو سعودیہ اور کویت سے اسرائیل منتقل کرنے پرغور کیا جارہاہے۔
وال سٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق، اس سال بہار میں امریکی فوج مشرق وسطیٰ کے مختلف اڈوں اور جنگی جہازوں سے 100 سے زائد طیاروں کے ساتھ ہرمز آبنائے میں بحری جہازوں کی محفوظ نقل و حرکت یقینی بنانے کی تیاری کر رہی تھی۔ تاہم سعودی عرب، جن کے اڈے اور فضائی حدود اس آپریشن کے لیے اہم تھے، نے اجازت دینے سے انکار کر دیا۔
اس انکار پر وائٹ ہاؤس ناراض ہوا اور سعودی عرب کو خبردار کیا کہ اگر سعودیہ نے پابندیاں نہ ہٹائیں تو ایرانی میزائلوں اور ڈرونز سے بچاؤ کے لیے درکار انٹرسیپٹرز کی ترسیل روک دی جائے گی۔ سعودی عرب نے آخر کار پابندیاں ہٹا دیں، لیکن امریکی حکام کے مطابق تعلقات کو پہنچنے والا نقصان آسانی سے ٹھیک نہیں ہو سکے گا۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اب امریکہ سعودی عرب میں اپنی فوجی موجودگی کم کرنے پر غور کر رہا ہے۔ سیکرٹری آف اسٹیٹ مارکو روبیو نے خلیجی ممالک کے دورے کے دوران متحدہ عرب امارات، کویت اور بحرین کا دورہ کیا، لیکن سعودی عرب نہیں گئے، جسے سعودی حکام نے جان بوجھ کر نظرانداز سمجھا۔امریکی ذرائع ابلاغ کے مطابق ،واشنگٹن سعودی عرب اور کویت میں اپنی فوجی موجودگی کم کرنے اور بعض صلاحیتوں کو اسرائیل منتقل کرنے پر غور کر رہا ہے۔
سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے G7 سربراہی اجلاس میں شرکت سے بھی انکار کر دیا تھا۔ تاہم وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک کے تعلقات مضبوط ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہناہے کہ یہ واقعہ امریکہ-سعودی تعلقات میں ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتا ہے، کیونکہ سعودی عرب اب ایران کے ساتھ سفارتی راہ تلاش کر رہا ہے اور پاکستان سمیت دیگر ممالک سے دفاعی تعاون بڑھا رہا ہے۔