غیر ملکی خاتون کا مجسٹریٹ کے سامنے اہم بیان منظرعام پر آگیا

مسلح افراد گھر میں داخل ہوئے، انہیں یرغمال بنا کر تشدد کا نشانہ بنایا

July 4, 2026 · قومی

لاہور میں غیر ملکی خواتین سے مبینہ زیادتی کے مقدمے میں متاثرہ غیر ملکی خاتون ایسٹرڈ  روبنسن کے مجسٹریٹ کے سامنے ریکارڈ کرائے گئے بیان کا کچھ حصہ منظرعام پر آگیا ہے۔

بیان کے مطابق خاتون نے بتایا کہ ان کی عمر 40 سال ہے اور وہ اسپین کے شہر ہنڈاس دی لاس کی رہائشی ہیں۔ انہوں نے حلف کے تحت بیان ریکارڈ کراتے ہوئے کہا کہ ان کے ساتھ پیش آنے والے واقعات وہی ہیں جن کا ذکر دوسری متاثرہ خاتون سٹیفنی بھی کر چکی ہیں۔

متاثرہ خاتون کے مطابق گھر میں قیام کے دوران پہلی رات چار مسلح افراد آئے، انہیں باندھ کر کالے کپڑوں میں ملبوس ایک شخص نے تشدد کیا، جسم کے حساس حصوں کو چھوا اور چہرے پر کئی گھونسے مارے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ رضا نامی شخص نے ان سے کمپیوٹر اور رقم کے بارے میں پوچھ گچھ کی، جس پر انہوں نے بتایا کہ دونوں چیزیں سبز بیگ میں موجود ہیں۔ بعد ازاں دوسری خاتون سٹیفنی کو بھی واپس لایا گیا اور دونوں سے کمپیوٹر اور پاس ورڈ کے بارے میں سوالات کیے جاتے رہے۔
خاتون نے الزام لگایا کہ ان کے سر پر پستول کا بٹ بھی مارا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ وہاں موجود ایک شخص روانی سے انگریزی بول رہا تھا، جس نے مبینہ طور پر دھمکی دی کہ اگر رقم نہ دی تو وہ زندہ واپس نہیں جا سکیں گی۔
متاثرہ خاتون کے مطابق بعد میں انہیں دوسرے فلور پر لے جایا گیا، جہاں مبینہ طور پر انہیںتشدد کا نشانہ بنایا گیا اور زیادتی ہوئی۔

ایسٹرڈ  روبنسن کے مطابق شور مچانے پر ملزم وہاں سے ہٹ گیا اور بعد ازاں انہیں دوبارہ دیگر افراد کے پاس لے جایا گیا۔

پولیس کی جانب سے مقدمے کی تفتیش جاری ہے،خاتون کے بیان کو بھی شواہد کا حصہ بنا لیا گیا ہے۔