لاہور میں 83 خطرناک عمارتوں کی نشاندہی، قانونی کارروائی شروع

داتا گنج بخش زون سب سے زیادہ متاثرہ علاقہ ہے، جہاں 35 خطرناک عمارتوں کی نشاندہی کی گئی

July 4, 2026 · قومی

لاہور میٹروپولیٹن کارپوریشن (ایم سی ایل) کی حالیہ سروے رپورٹ میں شہر کی 83 عمارتوں کو مخدوش قرار دیا گیا ہے، جن میں سے 45 عمارتیں انتہائی خستہ حالت میں ہیں اور انہیں ناقابلِ مرمت قرار دیا گیا ہے، جبکہ 38 عمارتیں مرمت کے ذریعے قابلِ استعمال بنائی جا سکتی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق داتا گنج بخش زون سب سے زیادہ متاثرہ علاقہ ہے، جہاں 35 خطرناک عمارتوں کی نشاندہی کی گئی۔ اس کے علاوہ شالیمار زون میں 12، جبکہ راوی، نشتر اور واہگہ زون میں 8، 8 عمارتیں مخدوش قرار دی گئی ہیں۔ علامہ اقبال زون میں کسی بھی خطرناک عمارت کی نشاندہی نہیں ہوئی۔

اعداد و شمار کے مطابق مجموعی طور پر 78 عمارتیں نجی ملکیت اور 5 سرکاری تحویل میں ہیں۔ ان میں 54 رہائشی، 27 تجارتی اور 2 صنعتی عمارتیں شامل ہیں۔

انتظامیہ کا کہنا ہے کہ تشویش کی بات یہ ہے کہ 83 میں سے 71 مخدوش عمارتوں میں اب بھی لوگ رہائش پذیر ہیں، جبکہ صرف 12 عمارتیں خالی کرائی جا سکی ہیں۔

حکام کے مطابق تمام متعلقہ مالکان کو نوٹسز جاری کر دیے گئے ہیں اور بعض مقامات پر قانونی کارروائی کا عمل بھی شروع کر دیا گیا ہے۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کے لیے صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے اور ضروری اقدامات جاری ہیں۔