یوٹیوبر ریحان طارق فرقہ واریت کے مقدمے میں گرفتار۔6روزہ جسمانی ریمانڈ

حراست کے بارے میں کوئی سرکاری تفصیل جاری نہیں کی گئی

July 8, 2026 · قومی

تصویر: سوشل میڈیا

 

معروف پوڈکاسٹر اور یوٹیوبر ریحان طارق کو لندن سے واپسی پر لاہور ایئرپورٹ سے گرفتار کر لیا گیا ۔اینکر پرسن علی حمزہ نے دعویٰ کیا تھا کہ ریحان طارق کو ان کے آخری پوڈ کاسٹ کے مواد کی وجہ سے این سی سی آئی اے کو موصول ہونے والی شکایات پر حراست میں لیا گیا۔انہوں نے کہا کہ جب ریحان طارق رات ایک بجے لاہور ایئرپورٹ پر لینڈ ہوئے تو انہیں وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے روک لیا، ریحان طارق نے مجھ سے سے فون پر رابطہ کرکے بتایا کہ ایف آئی اے والوں نے انہیں روکا ہے اور کہا کہ ’’آپ این سی سی آئی اے کو مطلوب ہیں، جو آپ کو لینے کے لیے ایئرپورٹ آ رہی ہے‘‘۔

ان کی حراست کے بارے میں کوئی سرکاری تفصیل جاری نہیں کی گئی۔تاہم سوشل میڈیاپر شیئرکی گئی وڈیومیں دیکھا جاسکتاہے کہ این سی سی آئی اے ٹیم ریحان طارق کو لے کر عدالت پہنچی۔

ذرائع کا کہناہے کہ عدالت نے ریحان طارق کا 6 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کرلیا ۔ان پر فرقہ واریت اور پیکا ایکٹ کی دیگر دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا۔ ڈپٹی ڈائریکٹر رضوان صابر کی مدعیت میں مقدمہ درج ہوا۔

ریحان طارق نے اپنے آفیشل پیج پر ایک انٹرویو لگایا اس میں انتہائی حساس اور متنازع سوالات کیے گئے۔

پراسییکوٹرنے عدالت کوبتایاکہ ملزم کی ڈیوائس اور موبائل فون کا فرانزک کرانا ہے، این سی سی آئی اے عدالت نے آئندہ سماعت پر تفتیشی رپورٹ طلب کرلی۔

 

ریحان طارق کو حراست میں لیے جانے کی اندرونی کہانی اور وجوہات سامنے آ گئیں۔ اینکر پرسن علی حمزہ کا کہنا تھا کہ ہم ریحان طارق کے ساتھ مسلسل فون پر رابطے میں رہے، اور ریحان طارق کا کہنا تھا کہ انہیں ابھی تک کچھ نہیں بتایا جا رہا کہ انہیں کیوں روکا گیا ہے، ہم اپنے کچھ دوستوں کے ہمراہ رات 3 بجے کے قریب ایئرپورٹ پہنچے، جب این سی سی آئی اے کی ٹیم وہاں پہنچی تو انہوں نے اہلکاروں سے معاملہ پوچھا، اہلکاروں نے بتایا وہ ریحان طارق کو لینے آئے ہیں، جب وجوہات پر اصرار کیا گیا تو انہوں نے سرسری سی گفتگو میں بتایا کہ غالباً ریحان طارق کا جو آخری پوڈ کاسٹ تھا، اس کے کونٹینٹ مواد کے حوالے سے کچھ معاملات ہیں اور کچھ لوگوں نے اس پر این سی سی آئی اے میں درخواستیں دے رکھی تھیں۔

علی حمزہ نے واضح کیا کہ ریحان طارق نے اپنا آخری پوڈ کاسٹ معروف عالمِ دین علامہ جواد نقوی کے ساتھ کیا تھا اور اس کے فوراً بعد وہ چھٹیاں گزارنے کے لیے برطانیہ چلے گئے تھے۔ علی حمزہ کے پوچھنے پر کہ کیا انہیں اس کارروائی کا پہلے سے کوئی خدشہ تھا؟ تو ریحان طارق نے جواب دیا کہ انہیں اس بات کا بالکل علم نہیں تھا کہ ان کے خلاف کوئی شکایت یا مقدمہ درج ہوا ہے یا وہ کسی کیس میں مطلوب ہیں۔

اینکر پرسن کا کہنا ہے کہ ریحان طارق نے گرفتاری سے قبل کہا کہ “میں تمام اداروں کا احترام کرتا ہوں اور ہر ادارے کے ساتھ مکمل تعاون کرنے کے لیے تیار ہوں”، رات 3 بجے سے لے کر صبح ساڑھے 6 بجے تک ریحان طارق کے ساتھ مسلسل رابطہ رہا، ایئرپورٹ پر تقریباً 5 سے 6 گھنٹے روکے رکھنے کے بعد اب ریحان طارق سے رابطہ منقطع ہو چکا ہے، اطلاعات ہیں کہ این سی سی آئی اے کی ٹیم انہیں ایئرپورٹ سے اپنے ساتھ لے جا چکی ہے۔