شام کے وزیر خارجہ کا 19 سال بعد پاکستان کا تاریخی دورہ،تزویراتی و معاشی تعلقات کے نئے دور کا آغاز
دورے کے دوران شامی وزیر خارجہ اسعد حسن الشیبانی نے وزیراعظم شہباز شریف، نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور عسکری قیادت سے اہم ملاقاتیں کیں
فائل فوٹو
اسلام آباد: علاقائی اور عالمی سطح پر پاکستان کے بڑھتے ہوئے سفارتی اثر و رسوخ کے پیشِ نظر شام کے وزیر خارجہ اسعد حسن الشیبانی نے ایک اعلیٰ سطح وفد کے ہمراہ پاکستان کا اہم اور 19 سال بعد پہلا تاریخی دورہ مکمل کر لیا ہے۔ شامی خبر رساں ادارے (سنا/سریا عرب نیوز ایجنسی) کے مطابق یہ دورہ دمشق اور اسلام آباد کے درمیان سیاسی، سیکیورٹی اور اقتصادی تعاون کو مضبوط بنانے کی جانب ایک بڑا قدم ہے، جسے دوطرفہ تزویراتی تعلقات کے ایک نئے باب کا آغاز قرار دیا جا رہا ہے۔
دورے کے دوران شامی وزیر خارجہ اسعد حسن الشیبانی نے وزیراعظم شہباز شریف، نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور عسکری قیادت سے اہم ملاقاتیں کیں۔ ان ملاقاتوں میں دونوں ممالک کے درمیان تجارتی اور عوامی روابط کی بہتری کے لیے مستقیم براہِ راست پروازوں کی بحالی، دمشق یا اسلام آباد میں سرمایہ کاری فورم کے انعقاد اور خطے میں کشیدگی بالخصوص امریکا ایران تناؤ کو کم کرنے میں پاکستان کے مصالحتی کردار پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
پاکستان کی جانب سے شام کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور مقبوضہ گولان کے معاملے پر شام کے اصولی مؤقف کی بھرپور حمایت کا اعادہ کیا گیا۔ اس کے علاوہ، پاکستان نے ادلب کے ابو الظہور ہوائی اڈے پر اسرائیلی حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے انہیں بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا۔
شامی وزیر خارجہ نے “مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے” پر دستخط کا خیرمقدم کیا اور علاقائی امن و استحکام کے لیے پاکستان کے اہم کردار کو سراہا۔ شامی مشیر محمد الجفال کے مطابق، دمشق نے ریاض، انقرہ اور اسلام آباد کے ساتھ اپنے تعلقات کو علاقائی توازن کے لیے انتہائی اہم قرار دیا ہے اور یہ دورہ ایک ایسے حساس موڑ پر ہوا ہے جو فریقین کے مابین تعاون کی نئی راہیں ہموار کرے گا۔