زیارت حملہ:21 شہداء کی میتیں لواحقین دھرنے میں لے گئے،مذاکرات تک تدفین سے انکار

احتجاج میں مختلف سیاسی رہنما بھی شریک ہوئے جنہوں نے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار یکجہتی کیا

July 9, 2026 · قومی
زیارت حملہ:21 شہداء کی میتیں لواحقین دھرنے میں لے گئے،مذاکرات تک تدفین سے انکار

زیارت حملہ:21 شہداء کی میتیں لواحقین دھرنے میں لے گئے،مذاکرات تک تدفین سے انکار

زیارت میں دہشت گرد حملے میں شہید ہونے والے 21 پولیس اہلکاروں کی میتیں لواحقین اور مظاہرین احتجاجاً سول اسپتال کوئٹہ سے ہنہ اوڑک ائیرپورٹ روڈ پر جاری دھرنے کے مقام پر لے گئے ہیں۔

لواحقین نے اعلان کیا ہے کہ وزیراعظم پاکستان اور چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے براہ راست مذاکرات تک دھرنا جاری رہے گا اور شہداء کی تدفین بھی نہیں کی جائے گی۔

ذرائع کے مطابق 21 شہداء کا پوسٹ مارٹم مکمل کر لیا گیا تھا، تاہم میتوں کی حوالگی اور تدفین کے معاملے پر لواحقین میں شدید غم و غصہ پایا گیا۔ مظاہرین نے سول اسپتال میں احتجاج کیا اور بعد ازاں میتیں اپنے ساتھ دھرنے کے مقام پر منتقل کر دیں۔

احتجاج میں مختلف سیاسی رہنما بھی شریک ہوئے جنہوں نے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار یکجہتی کیا۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ وہ اپنے مطالبات کی منظوری تک احتجاج ختم نہیں کریں گے۔

احتجاج کے دوران بعض مقامات پر مظاہرین اور پولیس کے درمیان کشیدگی بھی پیدا ہوئی۔ ذرائع کے مطابق پتھراؤ کے باعث متعدد اہلکار زخمی ہوئے، جس کے بعد سول اسپتال اور اطراف کے علاقوں میں سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی۔

یاد رہے کہ زیارت کے علاقے مانگی ڈیم فیز تھری میں دہشت گرد حملے کے نتیجے میں متعدد پولیس اہلکار شہید ہوئے تھے، جن میں دو ایس ایچ اوز بھی شامل تھے۔ سیکیورٹی فورسز کے مطابق کارروائی کے دوران حملے میں ملوث 15 دہشت گردوں کو ہلاک کیا گیا۔

دوسری جانب زیارت کے شہریوں نے قومی شاہراہ بھی بند کر رکھی ہے جبکہ ہنہ اوڑک ائیرپورٹ روڈ پر دھرنا جاری ہے۔ مظاہرین نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ شہداء کے ورثاء کے تحفظات دور کیے جائیں اور امن و امان کی صورتحال بہتر بنانے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔