ایم ڈی کیٹ پاس۔ مگر داخلے نہیں۔قائمہ کمیٹی میں حیران کن انکشاف

میرٹ کم کیے جانے کے باوجود میڈیکل کالجز کی متعدد نشستیں خالی رہ گئیں

July 10, 2026 · قومی

اسلام آباد:(افضل شاہ)قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے صحت کا اجلاس چیئرمین مہیش کمار کی زیر صدارت ہوا، جس میں وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال اور پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کے حکام نے شرکت کی۔
اجلاس کے آغاز پر وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال کی جانب سے نرسنگ کونسل بل کی منظوری کی خوشی میں ارکان کمیٹی کے لیے ظہرانے کا اہتمام بھی کیا گیا
پی ایم ڈی سی حکام نے کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ملک بھر میں میرٹ کم کیے جانے کے باوجود میڈیکل کالجز کی متعدد نشستیں خالی رہ گئیں۔ بریفنگ کے مطابق ایم بی بی ایس کی تقریباً 100 جبکہ ڈینٹل کی 300 نشستوں پر داخلے نہیں ہو سکے
کمیٹی رکن عالیہ کامران نے کہا کہ پی ایم ڈی سی کے صدر پر اپنی تنخواہ میں لاکھوں روپے اضافے کا الزام ہے، لہٰذا انہیں ان الزامات کا جواب دینا چاہیے
اس پر پی ایم ڈی سی کے صدر نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ان کی تنخواہ میں اضافے کی منظوری نہیں ہوئی، وہ اس وقت کسی بھی ادارے سے تنخواہ وصول نہیں کر رہے، حتیٰ کہ پمز کے ڈین کی حیثیت سے بھی انہوں نے تنخواہ نہیں لی۔ ان کے مطابق صرف ایک تجویز سامنے آئی تھی کہ ان کی تنخواہ وائس چانسلر کے برابر مقرر کی جائے، تاہم اس کی منظوری نہیں دی گئی۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے کہا کہ جن میڈیکل کالجز کی فیس زیادہ ہے، وہاں ایک بھی نشست خالی نہیں، جبکہ دیگر کالجز کو اپنی کارکردگی بہتر بنانا ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ جو ادارہ معیاری تعلیم فراہم کرے گا، اس کی نشستیں کبھی خالی نہیں رہیں گی۔
وفاقی وزیر صحت نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ملک میں سرکاری میڈیکل کالجز کی نشستوں میں اضافہ وقت کی ضرورت ہے۔
پی ایم ڈی سی حکام نے کمیٹی کو مزید بتایا کہ اس سال تقریباً 40 ہزار طلبہ نے ایم ڈی کیٹ امتحان پاس کیا، تاہم ان میں سے بڑی تعداد نے میڈیکل کالجز میں داخلے کے لیے درخواست ہی جمع نہیں کرائی۔