امریکہ۔ایران کشیدگی کے باعث آبنائے ہرمز سے بحری آمدورفت پانچ ہفتوں کی کم ترین سطح پر
آبنائے ہرمز میں جہازوں کی نقل و حرکت سست، ایران اور امریکہ کے متضاد دعوے برقرار
امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں کی آمدورفت گزشتہ پانچ ہفتوں کی کم ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔
شپنگ ڈیٹا کے مطابق اتوار کے روز صرف چھ بحری جہاز آبنائے ہرمز سے گزرے، جن میں ہیومینٹی نامی ایک بہت بڑا خام تیل بردار جہاز اور کیپٹن اینڈریاس بھی شامل تھے۔ ان جہازوں کے ذریعے بالترتیب 20 لاکھ بیرل ایرانی خام تیل اور 5 لاکھ بیرل کویتی پیٹرولیم مصنوعات منتقل کی جا رہی تھیں۔
اعداد و شمار کے مطابق تین خالی آئل ٹینکر بھی خلیج میں داخل ہوئے تاکہ وہاں سے خام تیل لوڈ کیا جا سکے۔
ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز تجارتی جہازوں کے لیے کھلی ہوئی ہے، تاہم ایران اس سے قبل اعلان کر چکا ہے کہ ایک بحری جہاز کی جانب سے غیر منظور شدہ راستہ اختیار کرنے کے بعد آبنائے کو بند کر دیا گیا ہے۔
ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے پیر کو دعویٰ کیا کہ اس نے آبنائے ہرمز میں دو بحری جہازوں کو روک لیا ہے، تاہم ان جہازوں کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی۔