شیخ حسینہ واپس آئیں،قانون کا سامنا کریں:بنگلا دیش حکومت

حکومت شفاف عدالتی کارروائی پر یقین رکھتی ہے اور شیخ حسینہ کو اپنے دفاع کے لیے مکمل قانونی مواقع فراہم کیے جائیں گے

July 16, 2026 · بام دنیا

بنگلا دیش کی حکومت نے سابق وزیرِ اعظم شیخ حسینہ واجد کی ممکنہ وطن واپسی کے منصوبے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ واپسی کی صورت میں انہیں عدالت میں قانونی کارروائی کا سامنا کرنا ہوگا۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق شیخ حسینہ کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ وہ رواں سال کے اختتام تک اپنی جماعت عوامی لیگ کی سیاسی سرگرمیاں دوبارہ شروع کرنے کے لیے رضاکارانہ طور پر ڈھاکا واپس آنے پر غور کر رہی ہیں۔

وزیراعظم کے مشیر زاہد الرحمٰن نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت شفاف عدالتی کارروائی پر یقین رکھتی ہے اور شیخ حسینہ کو اپنے دفاع کے لیے مکمل قانونی مواقع فراہم کیے جائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر وہ چاہیں تو بین الاقوامی شہرت یافتہ وکلاء کی خدمات بھی حاصل کر سکتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مقدمے کی سماعت انٹرنیشنل کرائمز ٹربیونل میں قانون کے مطابق ہوگی، جہاں عدالتی کارروائی کی نگرانی مبصرین بھی کر سکیں گے۔ ان کے مطابق عدالت تمام شواہد کا جائزہ لینے کے بعد آزادانہ فیصلہ کرے گی، جس میں سزا برقرار رکھنے، نظرِثانی کرنے یا بری کرنے سمیت تمام قانونی امکانات موجود ہیں۔

زاہد الرحمٰن نے واضح کیا کہ حکومت شیخ حسینہ کی واپسی کے معاملے پر کسی دباؤ کا شکار نہیں اور قانونی عمل اپنی رفتار سے جاری رہے گا۔

شیخ حسینہ اگست 2024 میں حکومت مخالف احتجاج کے بعد اقتدار سے الگ ہونے کے بعد بھارت منتقل ہو گئی تھیں، جہاں وہ اس وقت مقیم ہیں۔

دوسری جانب بھارتی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے اس معاملے پر ردِعمل دیتے ہوئے کہا کہ اگر حوالگی سے متعلق کوئی باضابطہ درخواست موصول ہوتی ہے تو اس پر متعلقہ قوانین کے مطابق غور کیا جائے گا۔

واضح رہے کہ شیخ حسینہ اپنے خلاف عائد تمام الزامات اور عدالتی فیصلوں کو سیاسی بنیادوں پر مبنی قرار دیتے ہوئے مسترد کر چکی ہیں، جبکہ بنگلا دیشی حکومت ان کی واپسی اور قانونی کارروائی کا مطالبہ کرتی آ رہی ہے۔