خیبرپختونخوامیں 80 ہزارجانیں گئیں،بندکمروں کے فیصلے مزید قبول نہیں،سہیل آفریدی

فاٹا پاٹا ٹیکس مخالفت، امن قیام اور ترقیاتی منصوبوں کا اعلان

July 16, 2026 · قومی

فائل فوٹو

 

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ بند کمروں کے فیصلہ سازوں کی غلط پالیسیوں کے باعث خیبرپختونخوا میں 80 ہزار افراد نے جانوں کی قربانی دی، جن میں عام شہری، پولیس، پاک فوج اور دیگر سیکیورٹی اداروں کے اہلکار شامل ہیں، اب مزید ایسے فیصلے قبول نہیں کیے جائیں گے۔

 

سوات کے علاقے کبل میں یونیورسٹی آف کمپیوٹنگ سائنسز اینڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی سمیت متعدد ترقیاتی منصوبوں کے افتتاح اور سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ 2004 کی پالیسی ناکام ثابت ہوئی تھی، بانی پی ٹی آئی عمران خان نے بھی اس کی نشاندہی کی تھی اور آج 2026 میں بھی وہ یہی کہتے ہیں کہ موجودہ پالیسی ناکام ہو چکی ہے۔

 

انہوں نے کہا کہ بند کمروں میں فیصلے کرنے والوں کو اپنی پالیسیوں پر نظرثانی کرتے ہوئے عوام کے ساتھ بیٹھ کر امن کے لیے فیصلے کرنا ہوں گے۔ اگر چند ہزار دہشت گردوں کا 22 برس میں خاتمہ نہیں کیا جا سکا تو متعلقہ اداروں کی کارکردگی پر سوال اٹھتا ہے۔

 

وزیراعلیٰ نے کہا کہ غلط پالیسیوں کے باعث دہشت گردی دوبارہ مسلط کی گئی اور خیبرپختونخوا کے عوام مسلسل قربانیاں دے رہے ہیں۔انہوں نے واضح کیا کہ فاٹا اور پاٹا میں کسی صورت ٹیکس نافذ نہیں ہونے دیں گے اور اس معاملے پر  وزیراعلیٰ ہاؤس میں جرگہ طلب کر لیا گیا ہے۔

 

محمد سہیل آفریدی نے کہا کہ 2018 میں جب ٹیکس نافذ کیا جا رہا تھا تو تحریک انصاف کی حکومت نے  2023 تک پانچ سالہ استثنا بھی دیا تھا۔

 

انہوں نے کہا کہ ملاکنڈ ڈویژن اور سابق فاٹا کے عوام نے عزت و ناموس کی خاطر بے مثال قربانیاں دی ہیں، دہشت گردی کے باعث لوگ بے گھر ہوئے اور آج بھی بہت سے خاندان مشکلات کا شکار ہیں، اس لیے عوام پر مزید بوجھ ڈالنے والے فیصلے قبول نہیں کیے جائیں گے۔

 

وزیراعلیٰ نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں اس سال امن قائم ہوگا اور پولیس و محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) امن کے قیام میں کلیدی کردار ادا کریں گے۔انہوں نے کہا کہ وہ جو بات عوامی جلسے میں کرتے ہیں، وہی بند کمروں میں بھی کرتے ہیں، انہیں نہ خریدا جا سکتا ہے اور نہ جھکایا جا سکتا ہے، وہ مرتے دم تک عمران خان کے نظریے پر قائم رہیں گے۔

 

انہوں نے مزید کہا کہ انہیں عمران خان سے ملاقات کی اجازت نہیں دی جا رہی اور اگر بدنیتی پر مبنی پالیسیاں جاری رہیں تو وہ بھرپور مزاحمت کریں گے۔

 

تقریب کے دوران وزیراعلیٰ نے 9 ارب 90 کروڑ روپے کی لاگت سے یونیورسٹی آف کمپیوٹنگ سائنسز اینڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی کبل کا افتتاح کیا۔ یونیورسٹی میں بی ایس کے چار اور ایم ایس کے دو پروگرامز میں 269 طلبہ زیر تعلیم ہیں۔

 

اس موقع پر 39 کروڑ 50 لاکھ روپے کی لاگت سے تعمیر ہونے والے بدلئی پل، 21 کروڑ 40 لاکھ روپے کی لاگت سے تعمیر شدہ سپیشل چلڈرن سکول اور سپیشل چلڈرن ٹیچر ٹریننگ سنٹر، کبل پولیس سہولت مرکز کا افتتاح کیا گیا، جبکہ ایک ارب 43 کروڑ 70 لاکھ روپے کی لاگت سے وینئی تا گٹ روڈ منصوبے کا سنگ بنیاد بھی رکھا گیا۔

 

وزیراعلیٰ نے کہا کہ کبل میں زیر تعمیر پیڈز اسپتال کو بھی جلد مکمل کیا جائے گا تاکہ عوام کو جدید طبی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔