کراچی سے 4 سالہ اذان کے اغوا کا منصوبہ کیسے انجام پایا، اندر کی کہانی

احتشام مبینہ طور پر تین روز تک بچے کے والدین کے ساتھ مل کر اذان کی تلاش کرتا رہا اور اہلِ خانہ و علاقہ مکینوں کے سامنے مددگار بننے کی کوشش کرتا رہا۔

July 22, 2026 · قومی

کراچی (اسٹاف رپورٹر ) ڈسٹرکٹ ویسٹ پولیس نے نیا ناظم آباد سے کمسن اذان کے اغواء کے میںملوث والد کے قریبی دوست مرکزی ملزم اور اس سالے سمیت 3 ملزمان کو گرفتار کر لیا۔ مغوی بچے کے والد
کا دوست ہی منصوبہ ساز اور اغوا میں براہ راست ملوث نکلا جو مغوی کے اہلخانہ کے ہمراہ بچے کو تلاش کرنےکا بھی ڈرامہ رچاتے ہوئے پولیس کارروائی سمیت دیگر معاملات کو دیکھتا رہا، پولیس نے ملزمان کی نشاندہی پرموٹر سائیکل ہیلمٹ جعلی نمبر پلیٹ اور ملزم کے زیر استعمال کپڑے بھی برآمد کر لیے اس حوالے ترجمان ڈسٹرکٹ ویسٹ پولیس کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق منگھو پیر پولیس نے نیا ناظم آباد سے 2 سالہ آذان کے اغوا میں ملوث مرکزی ملزم محمد احتشام ولد عمران خان اس کے سالے عبدالوہاب ولد اشفاق اور گھارو میں سہولت کاری فراہم کرنے والے افتخار ولد عبدالکریم کو گرفتار کر لیا، ترجمان کے مطابق گرفتار مرکزی ملزم احتشام کمسن مغوی بچے کے والد کا دوست منصوبہ ساز اور اغوا میں براہ راست ملوث تھا، پولیس نے گرفتار ملزمان کی نشاندہی پر واردات میں استعمال کی جانے والی موٹر سائیکل ، ہیلمٹ جعلی نمبر پلیٹ اور ملزم کے زیر استعمال کپڑے (پینٹ شرٹ، اپر اور جوتے) بھی برآمد کر لیے، ترجمان کے مطابق تحقیقات کے دوران معلوم ہوا کہ مغوی بچے کے والد کے دوست محمد احتشام نے مالی لالچ میں آکر اپنے سالے عبدالوہاب اور گھارو میں موجود اپنے والد کے کاریگر کے دوست افتخار احمد کی مدد سے واردات کی منصوبہ بندی کی اور اس پر عمل درآمد کیا، مرکزی ملزم محمد احتشام نے واقعہ سے 3 روز قبل اپنے
سالے عبدالوہاب سے موٹر سائیکل کے لیے جعلی نمبر پلیٹ بنوائی اور موٹر سائیکل ، ہیلمٹ اور جعلی نمبر پلیٹ خود وصول کی جس کے بعد مرکزی ملزم 16 جولائی کو جعلی نمبر پلیٹ لگانے کے بعد نجی سوسائٹی تک پہنچا لیکن اندر داخل ہونے کے بجائے واپس چلا گیا، اگلے روز 17 جولائی کو بھی ملزم نجی سوسائٹی میں داخل ہوا اور متاثرہ خاندان کے گھر تک گیا لیکن گھر پر تالا لگا ہونے کی وجہ سے واپس آگیا بعد ازاں مرکزی ملزم 18 جولائی کو دوبارہ نجی سوسائٹی میںداخل ہوا اور تقریباً 2 گھنٹے انتظار کرنے کے بعد 2 سالہ اذان علی خان کو گھر کے باہر سے اغوا کر کے اپنے ہمراہ لےگیا جسے نجی ہاؤسنگ سوسائٹی کے مرکزی گیٹ پر نصب سی ٹی وی فوٹیج میں بھی دیکھا گیا، ترجمان کے مطابق ملزماحتشام نے جمشید کوارٹر کے قریب بچے اور موٹر سائیکل کو اپنے سالے عبدالوہاب کے حوالے کیا اور اسے گھارولیجانے کی ہدایت دی اور وہاں پر پہنچ کر عبدالوہاب نے بچے کو تیسرے ملزم افتخار احمد کے حوالے کر دیا جو بچے کو گھاروسے تقریباً 10 کلو میٹر دور اپنے گاؤں لے گیا اس دوران مرکزی ملزم محمد احتشام مسلسل متاثرہ خاندان کے ساتھرابطے میں اور شہر بھر میں بچے کی تلاش میں شریک رہا اور 2 روز تک اہلخانہ سے لحمہ بہ لمحہ معلومات لیتا اور اپنی جانے سے مشورے ار معلومات بھی دیتا رہا تا کہ خود کوشک سے دور رکھ سکے، ترجمان کے مطابق تحقیقات میں یہ بھی
سامنے آیا کہ مرکزی ملزم احتشام نے اپنے بیرون ملک مقیم دوست عبداللہ کی مدد سے مغوی بچے کے اہلخانہ کو 50 لاکھ روپے تاوان کے مطالبے پر بنی پیغام بھجوایا تاہم پولیس کی مسلسل کارروائیوں ، تکنیکی تحقیقات اور میڈیا پر وسیع تشہیر کے باعث ملزمان دباؤ کا شکار ہو گئے جبکہ دوسری جانب گھارو کے گاؤں کے معززین نے بھی بچے کی موجودگی کی اطلاع ملنے پر ملزمان پر دباؤ ڈالا کہ بچے کو فوری واپس کیا جائے بعد ازاں ملزم افتخار احمد نے بہنوئی اور مرکزی ملزم احتشام پر بچے کو واپس لیجانے کے لیے دباؤ ڈالا جس پر احتشام نے گرفتاری کے خوف اور خود کو مددگار ظاہر کرنے کی غرض سے بچے کی موجودگی سے متعلق معلومات والدین اور پولیس کو فراہم کیں جس پر پولیس نے فوری خصوصی ٹیم تشکیل دی اور والدی کے ہمراہ پولیس پارٹی نے گھارو سے ڈھائی سالہ مغوی اذان کو بحفاظت بازیاب کرالیا، بچے کی بازیابی کے بعد پولیس نے مرکزی ملزم محمد احتشام کو تحویل میں لیا اور نقش کے دوران انکشاف پر اس کے سالے عبد الوہاب سہولت کار افتخار احد کو بھی گرفتار کر لیا، ترجمان کے مطابق تمام ملزمان نے دوران تفتیش واردات میں ملوث ہونے کا اعتراف کرتے ہوئے مکمل تفصیلات سے پولیس کو آگاہ کیا ہے جس کی مدد سے لوکیشن ڈیٹا اور دیگر تکنیکی شواہد کی مدد سے تصدیق بھی کی گئی واضح رہے کہ ملزمان نے 18 جولائی 2026 کو منگھو پیر کی ایک نجی رہائشی
سوسائٹی سے ڈھائی سالہ اذان علی خان کو اغوا کیا تھا جس کے اغوا کا مقدمہ نمبر 438 سال 2026 بجرم دفعہ 364 اے اور دفعہ (2) 3 پریوینشن آف ٹریفکنگ ان پر سنز ایکٹ 2018 کے تحت بچے کے والد کی مدعیت میں منگھو پیر تھانے میں درج کیا گیا جبکہ اغوا کے بعد بیرون ملک کے ایک واٹس ایپ نمبر سے مدعی مقدمہ سے بچے کی رہائی کے عوض 50 لاکھ روپے تاوان کا بھی مطالبہ کیا گیا تھا، کمسن مغوی کی بحفاظت بازیابی اور اس کے اغوا میں ملوث مرکزی ملزم سمیت 3 ملزمان کی گرفتار پروزیر داخلہ سندھ ضیا الحسن لنجار کی جانب سے 2 سالہ اذان علی خان کے اغوا کا معمہ حل کرنے اور بچے کی بحفاظت بازیابی پر ایس ایس پی ڈسٹرکٹ ویسٹ طارق الہی مستوئی اور پولیس ٹیم کو شاباش دیتے ہوئے کہا ہے کہ کمسن مغوی بچے کی بحفاظت بازیابی اور اغوا میں ملوث مرکزی ملزم سمیت تمام ملزمان کی گرفتاری پولیس کی پیشہ ورانہ مہارت اور مؤثر تفتیش کا نتیجہ ہے، اغوا جیسے سنگین جرائم میں ملوث عناصر کسی رعایت کے مستحق نہیں، ملزمان کے خلاف مضبوط شواہد کے ساتھ قانونی کارروائی یقینی بنائی جائے۔