وزیر داخلہ محسن نقوی کو عہدے سے ہٹانے کا دعویٰ کرنیوالے صحافی نے معافی مانگ لی
ٹویٹ کا مقصد کسی بھی صورت وزیر داخلہ کی تذلیل یا ان کی ساکھ کو نقصان پہنچانا نہیں تھا۔
اسلام آباد: وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کو عہدے سے ہٹائے جانے سے متعلق دعویٰ کرنے والے صحافی نے اپنے بیان پر معذرت کرتے ہوئے متعلقہ ٹویٹ واپس لے لی۔
صحافی نے کہا کہ 9 جولائی 2026 کو کی گئی ان کی ٹویٹ میں محسن نقوی کے ممکنہ پورٹ فولیو میں تبدیلی اور ان کی سیاسی حیثیت سے متعلق کیے گئے دعوے غیر ضروری اور غیر مصدقہ معلومات پر مبنی تھے، اس لیے وہ انہیں بغیر کسی تحفظ کے واپس لیتے ہیں۔
اپنے وضاحتی بیان میں انہوں نے کہا کہ ٹویٹ کا مقصد کسی بھی صورت وزیر داخلہ کی تذلیل یا ان کی ساکھ کو نقصان پہنچانا نہیں تھا۔ انہوں نے بتایا کہ محسن نقوی گزشتہ تقریباً 30 برس سے ان کے قابل احترام اور قریبی دوست ہیں۔
صحافی نے مزید کہا کہ اگر ان کے الفاظ سے محسن نقوی کی ساکھ متاثر ہوئی یا انہیں ذاتی طور پر دکھ پہنچا تو وہ اس پر دلی معذرت خواہ ہیں۔ ان کے بقول ایسا کرنا نہ ان کا ارادہ تھا اور نہ ہی انہوں نے جان بوجھ کر ایسا کیا۔
بیان میں انہوں نے محسن نقوی کی موجودہ ذمہ داریوں کا بھی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ پاکستان کی معاصر تاریخ کے ایک اہم اور مشکل دور میں اہم قومی ذمہ داریاں انجام دے رہے ہیں۔
صحافی نے آخر میں ایک بار پھر معذرت کا اظہار کرتے ہوئے تصدیق کی کہ انہوں نے مذکورہ ٹویٹ سوشل میڈیا سے حذف کر دی ہے۔