پی ڈی ایم اے نے سیلابی صورتحال پر الرٹ جاری کر دیا
تمام متعلقہ ادارے ہائی الرٹ پر ہیں اور کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ریسکیو اور امدادی انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں۔
لاہور: پنجاب ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے مون سون بارشوں کے باعث صوبے کے مختلف دریاؤں میں پانی کے بہاؤ میں اضافے کے پیشِ نظر تازہ فلڈ الرٹ جاری کرتے ہوئے نشیبی علاقوں کے مکینوں کو احتیاط برتنے کی ہدایت کی ہے۔
پی ڈی ایم اے کے مطابق دریائے سندھ میں تربیلا اور چشمہ کے مقامات پر نچلے درجے کی سیلابی صورتحال برقرار ہے، جبکہ دریائے چناب میں مختلف مقامات پر پانی کے بہاؤ میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
ادارے کے مطابق مرالہ، خانکی اور قادرآباد کے مقامات پر دریائے چناب میں پانی کی آمد مسلسل بلند ہے، جس کے باعث متعلقہ علاقوں میں صورتحال پر کڑی نظر رکھی جا رہی ہے۔ دوسری جانب دریائے ستلج اور دریائے جہلم میں پانی کا بہاؤ معمول کے مطابق ہے، جبکہ دریائے راوی کے بیشتر مقامات پر بھی صورتحال قابو میں ہے۔
پی ڈی ایم اے نے بتایا کہ نارووال کے نالہ بسنتر میں درمیانے درجے جبکہ گجرات کے نالہ بھمبر اور وزیرآباد کے نالہ پلکھو میں نچلے درجے کی سیلابی کیفیت دیکھی جا رہی ہے۔ حکام کے مطابق بالائی علاقوں میں ہونے والی بارشوں کے باعث دریاؤں اور ندی نالوں میں پانی کی مقدار بڑھی ہے۔
ڈی جی پی ڈی ایم اے عمر عباس میلہ نے کہا کہ گزشتہ چند گھنٹوں کے دوران دریائے چناب کے بالائی علاقوں میں بارشوں میں کمی آئی ہے، جس کے باعث دریا میں پانی کا بہاؤ نسبتاً مستحکم ہوا ہے، تاہم صورتحال کی مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے۔
انہوں نے دریاؤں کے کناروں اور دریا کے پاٹ میں رہائش پذیر افراد سے اپیل کی کہ وہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے بچنے کے لیے محفوظ مقامات پر منتقل ہو جائیں۔
پی ڈی ایم اے کے مطابق ممکنہ متاثرہ علاقوں میں فلڈ ریلیف کیمپس قائم کر دیے گئے ہیں، جہاں متاثرین کے لیے خوراک، ادویات، پینے کا صاف پانی اور دیگر بنیادی سہولیات فراہم کی جائیں گی۔
ادارے نے شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ موسم اور سیلابی صورتحال کے پیش نظر غیر ضروری طور پر دریاؤں، نہروں اور ندی نالوں کے قریب جانے سے گریز کریں، دریا عبور کرتے وقت صرف محفوظ کشتیوں اور لائف جیکٹس کا استعمال کریں اور بچوں کو ہرگز پانی میں نہانے یا کھیلنے کی اجازت نہ دیں۔
پی ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ تمام متعلقہ ادارے ہائی الرٹ پر ہیں اور کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ریسکیو اور امدادی انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں۔