لاہور سمیت مختلف شہروں میں موسلا دھار بارش کے باعث نشیبی علاقے زیرِ آب
لاہور ایئر پورٹ کے علاقے میں سب سے زیادہ 263 ملی میٹر بارش ہوئی
لاہور: ملک بھر میں جاری مون سون بارشوں نے معمولاتِ زندگی متاثر کر دیے ہیں۔ لاہور سمیت مختلف شہروں میں موسلا دھار بارش کے باعث نشیبی علاقے زیرِ آب آ گئے، جبکہ خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں میں ندی نالوں میں طغیانی اور درمیانے درجے کے سیلاب کی صورتحال پیدا ہو گئی۔
واسا لاہور کے مطابق شہر میں علی الصبح سے ہونے والی بارش کے دوران مختلف علاقوں میں نمایاں بارش ریکارڈ کی گئی۔ ایئرپورٹ کے علاقے میں سب سے زیادہ 263 ملی میٹر بارش ہوئی، جبکہ تاجپورہ، شادی پورہ، مغل پورہ، اپر مال، مناواں اور جوہر ٹاؤن سمیت متعدد علاقوں میں بھی شدید بارش ریکارڈ کی گئی۔
شدید بارش کے باعث لاہور کے کئی نشیبی علاقے زیرِ آب آ گئے، جس سے ٹریفک کی روانی متاثر ہوئی اور شہریوں کو آمدورفت میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
ادھر سیشن کورٹ لاہور میں بارش کے باعث دو وکلا کے چیمبرز کی چھتیں گر گئیں۔ اطلاعات کے مطابق سینئر قانون دان پیر مسعود چشتی کا چیمبر بھی متاثر ہوا، تاہم چیمبر اس وقت خالی تھا، جس کے باعث کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ خراب موسم کے باعث ماتحت عدالتوں میں بھی معمول سے کم سائلین پہنچے۔
دوسری جانب انسپکٹر جنرل پنجاب نے بارشوں کے پیش نظر پولیس کو ہائی الرٹ رہنے کی ہدایت جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ پولیس افسران اور اہلکار متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیوں میں بھرپور حصہ لیں اور کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری کارروائی کو یقینی بنائیں۔ سپروائزری افسران کو امدادی سرگرمیوں کی خود نگرانی کرنے کی بھی ہدایت دی گئی ہے۔
ادھر خیبر پختونخوا کے ضلع خیبر، باڑہ، جمرود اور وادی تیراہ میں بھی بارش کے بعد موسم خوشگوار ہو گیا، تاہم پہاڑی علاقوں میں ہونے والی بارش کے باعث ندی نالوں میں طغیانی آ گئی اور دریائے باڑہ میں درمیانے درجے کے سیلاب کی صورتحال پیدا ہو گئی۔
ضلعی انتظامیہ کے مطابق ریسکیو اور دیگر متعلقہ اداروں کو الرٹ کر دیا گیا ہے، جبکہ ندی نالوں کے قریب جانے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ پابندی کی خلاف ورزی کرنے والے دو افراد کو گرفتار بھی کیا گیا ہے۔
انتظامیہ نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ بارشوں کے دوران غیر ضروری سفر سے گریز کریں، نشیبی علاقوں، ندی نالوں اور برساتی پانی کے قریب جانے سے احتیاط برتیں اور کسی بھی ہنگامی صورتحال میں متعلقہ اداروں سے فوری رابطہ کریں۔