عیسائی امریکی اسکالرجو اسلام کا خیرخواہ تھا

انہوں نے نائن الیون کے بعد اسلاموفوبیا کو چیلنج کیا

فائل فوٹو

 

کیا آپ یقین کریں گے کہ امریکہ میں ایک ایسا غیر مسلم اسکالر بھی تھا جسے مسلم دنیا اپنا دوست کہتی تھی؟ اس نے نائن الیون کے بعد اسلاموفوبیا کو چیلنج کیا۔دلیل کے ذریعے دنیا کو اسلام کا اصل چہرہ دکھایا۔ یہ بات ہورہی ہے امریکی محقق، مصنف اور دانشور پروفیسر جان ایسپوزیٹو(John Esposito) کی، جن کا گذشتہ دنوں انتقال ہوا۔ان کی عمر86برس تھی۔

جان ایسپوزیٹوکیتھولک عیسائی تھے، لیکن انہوں نے پچاس برس تک مسلم دنیا، اسلام، اورمسلمانوں کا تحقیقی مطالعہ کیا،کتابیں لکھیں۔ وہ اسلام کو کھلے ذہن سے سمجھنے کا پیغام دیتے رہے۔

نائن الیون کے بعد، مغرب میں اسلام کو دہشت گردی سے جوڑنے کا رجحان بڑھ گیاتھا۔اس وقت جان ایسپوزیٹووہ سب سے بڑی آواز تھے جس نے کہا کہ دہشت گرد امتِ مسلمہ کی نمائندگی نہیں کرتے۔

انہوں نے بار بار یہ پیغام دیا کہ اسلام کو سمجھنے کے لیے مسلمانوں کی اصل زندگی، تاریخ اور عقائد کو جاننا ہوگا۔
پروفیسر ایسپوزیٹونے پچاس سے زیادہ کتابیں لکھیں۔35 زبانوں میں ان کے ترجمے ہوئے۔
مزید معلومات کےلیے وڈیودیکھیں۔