دوسری کمپنی کی ٹیکنالوجی چرانے پر ایپل کو 5.7 ارب ڈالر کا جرمانہ

یہ مقدمہ آڈیو ٹیکنالوجی کمپنی ٹیکشن ٹیکنالوجی نے دائر کیا تھا، جس نے 2021 میں الزام عائد کیا تھا کہ ایپل نے اس کی دو پیٹنٹ شدہ ہیپٹک ٹیکنالوجیز کو اجازت کے بغیر اپنی مصنوعات میں استعمال کیا۔

September 29, 2026 · بام دنیا
دوسری کمپنی کی ٹیکنالوجی چرانے پر ایپل کو 5.7 ارب ڈالر کا جرمانہ

دوسری کمپنی کی ٹیکنالوجی چرانے پر ایپل کو 5.7 ارب ڈالر کا جرمانہ

امریکی جیوری نے پیٹنٹ تنازع میں ایپل کے خلاف فیصلہ سناتے ہوئے کمپنی کو تقریباً 5.7 ارب ڈالر ہرجانہ ادا کرنے کا حکم دے دیا۔

یہ مقدمہ آڈیو ٹیکنالوجی کمپنی ٹیکشن ٹیکنالوجی نے دائر کیا تھا، جس نے 2021 میں الزام عائد کیا تھا کہ ایپل نے اس کی دو پیٹنٹ شدہ ہیپٹک ٹیکنالوجیز کو اجازت کے بغیر اپنی مصنوعات میں استعمال کیا۔

ہیپٹک ٹیکنالوجی کے ذریعے اسمارٹ فون، گھڑی یا دیگر برقی آلات میں وائبریشن پیدا کی جاتی ہے، جس سے صارف کو بٹن دبانے، پیغام موصول ہونے یا دیگر کارروائیوں کے دوران چھونے کا احساس ملتا ہے۔

ٹیکشن کے مطابق ایپل نے اپنی مختلف ڈیوائسز میں اس ٹیکنالوجی کو بہتر بنا کر استعمال کیا اور اس سے صارفین کے تجربے میں اضافہ ہوا۔ کمپنی نے مؤقف اختیار کیا کہ ایپل نے اس کی ایجاد کو لائسنس یا اجازت کے بغیر استعمال کیا۔

دوسری جانب ایپل نے تمام الزامات مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کا ٹیپٹک انجن ٹیکشن کی ٹیکنالوجی سے بنیادی طور پر مختلف ہے۔ ایپل نے فیصلے اور ہرجانے کی رقم سے بھی اختلاف کیا ہے اور اعلان کیا ہے کہ وہ اس فیصلے کے خلاف اپیل کرے گی۔

ٹیپٹک انجن ایپل کے آلات میں ہیپٹک فیڈبیک فراہم کرتا ہے اور اسے پہلی بار 2014 میں ایپل واچ کے ساتھ متعارف کرایا گیا تھا۔ بعد میں اس ٹیکنالوجی کو آئی فون، ایپل واچ اور دیگر مصنوعات میں مزید وسعت دی گئی۔

اس مقدمے میں اس سے قبل 2023 میں ایک امریکی جج نے قرار دیا تھا کہ ایپل نے ٹیکشن کے پیٹنٹس کی خلاف ورزی نہیں کی، تاہم بعد میں وفاقی اپیل عدالت میں معاملہ دوبارہ زیرِ سماعت آیا اور رواں ستمبر میں جیوری ٹرائل ہوا۔

جیوری نے ایپل کو پیٹنٹ کی خلاف ورزی کا ذمہ دار قرار دیا، تاہم یہ فیصلہ نہیں دیا کہ کمپنی نے جان بوجھ کر پیٹنٹ کی خلاف ورزی کی تھی۔

یہ ایپل کے خلاف حالیہ برسوں میں سامنے آنے والے متعدد پیٹنٹ تنازعات میں سے ایک ہے۔ نومبر 2025 میں بھی ایک امریکی عدالت نے ایپل کو طبی ٹیکنالوجی کمپنی ماسیمو کو 634 ملین ڈالر ہرجانہ ادا کرنے کا حکم دیا تھا۔