خام تیل سستا، پھر بھی پاکستان میں پیٹرول مہنگا کر دیا گیا
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین مختلف عوامل کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا جاتا ہے
اسلام آباد: عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی کے باوجود پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کیے جانے پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔
وزیر مملکت برائے خزانہ علی پرویز ملک نے نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے اعتراف کیا کہ گزشتہ روز عالمی مارکیٹ میں خام تیل سستا ہوا تھا جبکہ ریفائنر پیٹرول کی قیمت میں بھی کمی ریکارڈ کی گئی۔
تاہم دوسری جانب حکومت کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کیا گیا، جس کے بعد شہریوں نے عالمی قیمتوں میں کمی کے باوجود مقامی سطح پر پیٹرول مہنگا ہونے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
علی پرویز ملک کا کہنا تھا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین میں عالمی قیمتوں کے علاوہ دیگر عوامل، جن میں ٹیکسز، درآمدی لاگت اور کرنسی کی صورتحال شامل ہیں، کو بھی مدنظر رکھا جاتا ہے۔
دوسری جانب گزشتہ روز جمعہ کو عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں معمولی کمی دیکھی گئی، تاہم ہفتہ وار بنیادوں پر قیمتیں مجموعی طور پر بلند رہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق بحیرۂ احمر میں آئل ٹینکروں پر حملوں اور قازقستان سے تیل کی برآمدات میں رکاوٹ کے باعث سپلائی سے متعلق خدشات برقرار ہیں۔کاروباری سیشن کے دوران برینٹ خام تیل 100 ڈالر فی بیرل کی سطح عبور کر گیا، جبکہ ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) تقریباً 92 ڈالر فی بیرل اور اماراتی مربن خام تیل 107.30 ڈالر فی بیرل کے قریب ٹریڈ ہوتا رہا۔حکومت کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے بعد شہریوں کا کہنا ہے کہ عالمی سطح پر قیمتوں میں کمی کا فائدہ بھی عوام تک پہنچنا چاہیے، جبکہ ماہرین کا مؤقف ہے کہ مقامی قیمتوں کا تعین مختلف مالیاتی اور حکومتی عوامل کی بنیاد پر کیا جاتا ہے۔