اقوامِ متحدہ اجلاس میں شرکت کا عندیہ، نیتن یاہو کی نیویارک کے میئر پر سخت تنقید

شہر کا منتخب میئر تمام شہریوں کی نمائندگی کرتا ہے، چاہے ان کا تعلق کسی بھی مذہب یا برادری سے ہو، اس لیے کسی بھی طبقے کو دوسرے کے مقابل کھڑا کرنا مناسب طرزِ عمل نہیں۔

July 27, 2026 · بام دنیا

یروشلم: اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو نے عندیہ دیا ہے کہ وہ رواں سال نیویارک میں ہونے والے اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کریں گے، جبکہ اس موقع پر انہوں نے نیویارک کے میئر زہران ممدانی پر سخت تنقید بھی کی ہے۔

غیر ملکی میڈیا کو انٹرویو دیتے ہوئے نیتن یاہو نے کہا کہ وہ اپنی ممکنہ گرفتاری سے متعلق بیانات پر پریشان نہیں، تاہم ان کا الزام ہے کہ نیویارک کے میئر ایسے بیانات دے کر معاشرے میں نفرت کو ہوا دے رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ شہر کا منتخب میئر تمام شہریوں کی نمائندگی کرتا ہے، چاہے ان کا تعلق کسی بھی مذہب یا برادری سے ہو، اس لیے کسی بھی طبقے کو دوسرے کے مقابل کھڑا کرنا مناسب طرزِ عمل نہیں۔

نیتن یاہو نے نیویارک میں حالیہ چاقو حملوں کا بھی حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان واقعات کے بعد شہر میں یہودی برادری عدم تحفظ کا شکار ہے اور اس صورتحال پر سنجیدگی سے توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

دوسری جانب نیویارک کے میئر زہران ممدانی اس سے قبل اسرائیلی وزیرِ اعظم کو بین الاقوامی فوجداری عدالت کے وارنٹ کی بنیاد پر گرفتار کرنے کی حمایت کر چکے تھے، تاہم بعد ازاں انہوں نے وضاحت کی کہ قانونی مشاورت کے بعد یہ واضح ہوا کہ میئر کے دفتر کو ایسے کسی وارنٹ پر عمل درآمد کا اختیار حاصل نہیں۔

زہران ممدانی نے اس کے باوجود وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ بین الاقوامی فوجداری عدالت کے فیصلوں کے مطابق کارروائی پر غور کرے۔

واضح رہے کہ بین الاقوامی فوجداری عدالت نے 2024 میں بنیامین نیتن یاہو کے خلاف غزہ میں مبینہ جنگی جرائم کے الزامات کے تحت گرفتاری کا وارنٹ جاری کیا تھا، تاہم اسرائیل ان الزامات کو مسترد کرتا ہے اور نیتن یاہو انہیں بے بنیاد قرار دیتے ہیں۔