ٹرمپ نے مذاکرات کی خاطر ایران پر حملے مؤخر کیے،امریکی سفیر کا دعویٰ

صدر ٹرمپ مذاکرات کے ذریعے کشیدگی کم کرنے کے خواہاں ہیں اور اسی مقصد کے تحت سفارت کاری کو مزید وقت دیا جا رہا ہے۔

July 27, 2026 · بام دنیا

واشنگٹن: اقوام متحدہ میں امریکا کے سفیر مائیک والٹز نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سفارتی کوششوں کو مزید موقع دینے کے لیے مسلسل دوسری رات ایران پر حملے روک رکھے ہیں۔

ایک امریکی ٹی وی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے مائیک والٹز نے کہا کہ صدر ٹرمپ مذاکرات کے ذریعے کشیدگی کم کرنے کے خواہاں ہیں اور اسی مقصد کے تحت سفارت کاری کو مزید وقت دیا جا رہا ہے۔

دوسری جانب ایرانی فوج کے ترجمان نے بھی اپنے بیان میں کہا ہے کہ تہران نے بھی موجودہ صورتحال کے پیش نظر خطے میں اپنے جوابی حملے عارضی طور پر روک دیے ہیں۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب دونوں ممالک کے درمیان تقریباً دو ہفتوں تک جاری رہنے والی فوجی کارروائیوں اور جوابی حملوں کے باعث خطے میں کشیدگی میں نمایاں اضافہ ہوا تھا، جبکہ جون میں ہونے والی جنگ بندی بھی مؤثر نہ رہ سکی تھی۔

ایک اور انٹرویو میں مائیک والٹز سے جب پوچھا گیا کہ آیا صدر ٹرمپ نے مزید فوجی کارروائی کا امکان مسترد کر دیا ہے تو انہوں نے کہا کہ ایسا نہیں ہے اور امریکی صدر نے تمام ممکنہ آپشنز بدستور کھلے رکھے ہیں۔

انہوں نے ان اطلاعات کو بھی مسترد کیا جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ تنازع کے پھیلنے کی صورت میں امریکا کے فضائی دفاعی وسائل متاثر ہو سکتے ہیں۔ ان کے مطابق امریکی فوج کے پاس کسی بھی ممکنہ صورتحال سے نمٹنے کے لیے ضروری صلاحیت اور وسائل موجود ہیں۔

ادھر صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس معاملے پر کوئی نیا باضابطہ بیان جاری نہیں کیا، تاہم انہوں نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ چند تصاویر شیئر کیں، جن میں امریکی جنگی طیاروں کو ایرانی بحری جہازوں پر حملے کرتے ہوئے دکھایا گیا تھا۔