ایرانی پاسداران انقلاب نے عراق میں اپنے 4 اہلکار مارے جانے کی تصدیق کردی
عراقی شیعہ رہنما مقتدریٰ الصدر کا ایرانی اہلکاروں سے ملک سے نکلنے کا مطالبہ
فائل فوٹو
تہران: سیمی آفیشل ایرانی خبر رساں ایجنسی “مہر” کی رپورٹ کے مطابق امریکی اور سعودی فورسز کے ایک مشترکہ حملے میں ایران کی پاسدارانِ انقلاب (IRGC) کے کم از کم 4 اہلکار جاں بحق ہو گئے ہیں۔ سوشل میڈیا پر ایرانی پرچم میں لپٹے تابوتوں کی تصاویر بھی گردش کر رہی ہیں تاہم پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے اس معاملے پر تاحال کوئی رسمی تصدیق جاری نہیں کی گئی۔
دوسری جانب عراق کے بااثر شیعہ رہنما مقتدیٰ الصدر نے ایران کی پاسدارانِ انقلاب اور اس کی اتحادی ملیشیاؤں پر زور دیا ہے کہ وہ عراق کی سرزمین کو کارروائیوں کے لیے استعمال نہ کریں تاکہ ملک کو ایک اور تباہ کن جنگ سے بچایا جا سکے۔
سماجی رابطے کی سائٹ ‘ایکس’ (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری اپنے اہم بیان میں مقتدیٰ الصدر نے واضح کیا کہ خود سر ملیشیاؤں کو خلیجی بھائیوں کے سامنے ایسا کوئی بہانہ فراہم نہیں کرنا چاہیے جس کی بنا پر ہماری مقدس سرزمین کو نشانہ بنایا جائے۔
انہوں نے تمام فریقین پر زور دیا کہ وہ “صہیونی و امریکی دشمن” کی ان سازشوں میں نہ آئیں جن کا مقصد خطے کے بھائیوں کو اپس میں لڑانا اور ایک دوسرے کو قتل کروانا ہے۔
مقتدیٰ الصدر نے عراق کی خودمختاری کی مسلسل خلاف ورزیوں اور ملیشیاؤں کی جانب سے عراق کو “ایک لاحاصل جنگ” میں دھکیلنے کی کوششوں کی سخت الفاظ میں مذمت کی۔ انہوں نے عراقی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی ریاستی حاکمیت کو فی الفور نافذ کرے۔
ساتھ ہی انہوں نے ملک کے اندر اور باہر موجود ان “خوابیدہ دہشت گرد خلیوں” سے بھی خبردار کیا جو فرقہ واریت کو ہوا دے کر عراق کو عدم استحکام سے دوچار کرنا چاہتے ہیں۔
مقتدیٰ الصدر نے اپنی بات کا اختتام کرتے ہوئے کہا کہ عراق اور اس کے عوام کو امن کی اشد ضرورت ہے۔ ہمارا ملک پہلے ہی ایسی جنگوں سے بہت کچھ بھگت چکا ہے جنہوں نے افسوس کے ساتھ عراق کے تمام وسائل اور وقار کو نچوڑ کر رکھ دیا ہے۔
انہوں نے پڑوسی ممالک سے امن و آشتی اور مفاہمت کی اپیل کی اور ایک ایسے خطے کا خیال پیش کیا جو غیر ملکی فوجی اڈوں، نارملائزیشن اور استعماری تسلط سے بالکل پاک ہو۔