کوئٹہ میں کوئلےکی کان منہدم ہونے سے اموات کی تعداد34 ہوگئی

میتھین گیس دھماکے سے کان منہدم، چار ہزار فٹ گہرائی میں امدادی کارروائیاں جاری

July 31, 2026 · قومی

فائل فوٹو

 

کوئٹہ میں واقع سورینج کوئلے کی کان میں ایک زوردار دھماکے کے بعد جاں بحق کان کنوں کی تعداد 34 ہوگئی، کان میں پھنسے دیگر مزدوروں کی تلاش کے لیے ریسکیو آپریشن تاحال جاری ہے۔ یہ حادثہ اسپن کاریز کے قریب پی ایم ڈی سی آفس کے نزدیک کوئلے کی کان میں پیش آیا۔

دھماکے کے بعد کوئلے کی کان مکمل طور پر منہدم ہوگئی، جس کے بعد صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) اور دیگر رضاکار اداروں نے امدادی کارروائیاں شروع کر دیں۔ ریسکیو ٹیمیں چار ہزار فٹ گہرائی میں پھنسے کان کنوں تک رسائی کے لیے انتہائی دشوار حالات میں مسلسل کام کر رہی ہیں۔

پی ڈی ایم اے کے مطابق دھماکے کے وقت کان کے اندر کم از کم 36 کان کن موجود تھے، جبکہ اب تک 34 کان کنوں کی لاشیں نکالی جا چکی ہیں۔ امدادی کارروائیاں باقی مزدوروں تک رسائی کے لیے بدستور جاری ہیں۔

صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مینیجر آپریشنز محمد فہد کے مطابق جمعے تک 34 کان کنوں کی لاشیں نکالی جا چکی ہیں، جبکہ ریسکیو ٹیمیں دیگر پھنسے مزدوروں کو نکالنے کے لیے آپریشن جاری رکھے ہوئے ہیں۔

چیف انسپکٹر آف مائنز محمد عاطف کے مطابق کان میں میتھین گیس بھرنے کے باعث دھماکہ ہوا، جس کے نتیجے میں کان بیٹھ گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ کچھ کان کنوں کے زندہ ملنے کی امید موجود ہے، تاہم اس کے امکانات کم ہیں۔

حکام کے مطابق حادثے سے متاثر ہونے والے زیادہ تر کان کنوں کا تعلق خیبر پختونخوا کے ضلع شانگلہ اور دیگر علاقوں سے ہے۔

صوبائی وزیر معدنیات و کان کنی شعیب نوشیروانی نے کہا ہے کہ دھماکے کے وقت کان کے متاثرہ حصے میں تقریباً 40 افراد موجود تھے۔ انہوں نے بتایا کہ ریسکیو ٹیمیں انتہائی دشوار حالات کے باوجود مسلسل آپریشن جاری رکھے ہوئے ہیں اور کان میں پھنسے مزدوروں تک رسائی کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔

شعیب نوشیروانی نے کہا کہ سورینج میں پیش آنے والے کان حادثے کی ہر پہلو سے تحقیقات کی جائیں گی۔ انہوں نے جاں بحق کان کنوں کے لواحقین کے لیے فی کس 5 لاکھ روپے جبکہ زخمیوں کے لیے فی کس 3 لاکھ روپے مالی امداد دینے کا اعلان بھی کیا۔