ساڑھے 3 سال میں طے کر کے اب کہتے ہو سسٹم خراب ہے, فارم 47 سے صدارت کیسے جائز؟ — رانا ثناء اللہ

اگر ووٹ فارم 47 کے ہیں تو زرداری کی صدارت کیسے جائز؟

August 1, 2026 · قومی

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما رانا ثناء اللہ نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کی اعلیٰ قیادت کے دوہرے معیار اور وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سمیت نظام پر تنقید کرنے والوں کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

انہوں نے فارم 47 کے تنازع پر پاکستان پیپلز پارٹی کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا:

“ان ووٹوں کو آپ اگر فارم 47 کا کہتے ہیں، تو صدر نے جو ووٹ لیے ہیں وہ کس فارم کے تھے؟ اس کا بھی جواب دو نا ساتھ ہی! یعنی اگر انہی ووٹوں سے والد محترم صدر بنیں، تو وہ تو صدرِ پاکستان ہیں، اور وزیر اعظم کو کہتے ہیں کہ جی وزیر اعظم جو ہے میں اس کو نہیں مانتا۔”

رانا ثناء اللہ نے بات کو آگے بڑھاتے ہوئے سیاسی پیشرفت اور جمہوری نظام کی ناکامی کا دعویٰ کرنے والوں (محسن نقوی و دیگر) پر طنز کرتے ہوئے کہا:

“اس سسٹم میں تم نے 30 سال کا سفر ساڑھے تین سال میں طے کیا۔ تم کہاں سے چلے ہو اور کہاں پہنچے ہو؟ اور اب تمہیں آگے پتہ چلا ہے کہ یہ سسٹم بالکل خراب ہے اور چل نہیں سکتا؟”

لیگی رہنما نے واضح کیا کہ پاکستان کا پارلیمانی جمہوری نظام قائد اعظم محمد علی جناح کا دیا ہوا ہے جسے اس ملک کے عوام نے طویل سیاسی جدوجہد کے بعد حاصل کیا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ایک طرف اسی نظام اور پارلیمنٹ سے صدارت سمیت تمام مراعات حاصل کرنا اور دوسری طرف اسی سیٹ اپ اور جمہوری نظام کی ناکامی کا ڈھنڈورا پیٹنا بالکل غیر منطقی ہے۔