براڈ پیک سانحہ،8 کوہ پیماؤں کی لاشیں برآمد،2 تاحال لاپتہ
ہلاک ہونے والے 4 کوہ پیماؤں کی شناخت کر لی گئی ہے، جبکہ ان میں سے 3 کی میتیں پاک فوج کے ہیلی کاپٹروں کے ذریعے سکردو منتقل کر دی گئی ہیں۔
سکردو: دنیا کی بارہویں بلند ترین چوٹی براڈ پیک پر برفانی تودہ گرنے کے المناک واقعے میں 8 کوہ پیماؤں کی ہلاکت کی تصدیق ہو گئی ہے، جبکہ 2 افراد کی تلاش کے لیے ریسکیو آپریشن بدستور جاری ہے۔
حکام کے مطابق بین الاقوامی کوہ پیماؤں کی 10 رکنی ٹیم کیمپ ٹو سے کیمپ تھری کی جانب پیش قدمی کر رہی تھی کہ اچانک برفانی تودے کی زد میں آ گئی۔ حادثے کے بعد امدادی ٹیموں نے کارروائی کرتے ہوئے 8 افراد کی لاشیں برآمد کر لیں۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق ہلاک ہونے والے 4 کوہ پیماؤں کی شناخت کر لی گئی ہے، جبکہ ان میں سے 3 کی میتیں پاک فوج کے ہیلی کاپٹروں کے ذریعے سکردو منتقل کر دی گئی ہیں۔
ریسکیو حکام کا کہنا ہے کہ خراب موسم اور دشوار گزار راستوں کے باعث امدادی کارروائیوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ ڈرون سرویلنس کے ذریعے مزید متاثرین کی موجودگی کے شواہد ملنے کے بعد لاپتہ افراد کی تلاش جاری رکھی گئی ہے۔
حکام کے مطابق پاکستانی کوہ پیما سہیل سخی سمیت 2 کوہ پیما تاحال لاپتہ ہیں، جن کی تلاش کے لیے تمام دستیاب وسائل استعمال کیے جا رہے ہیں۔
صوبائی وزیر سیاحت نیک نام کریم نے کہا ہے کہ لاپتہ کوہ پیماؤں کی بازیابی کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جا رہے ہیں، جبکہ کمشنر بلتستان کا کہنا ہے کہ موسم بہتر ہوتے ہی سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن مزید تیز کر دیا جائے گا۔
گلگت بلتستان حکومت نے سانحہ براڈ پیک پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے متاثرہ خاندانوں سے اظہارِ ہمدردی کیا ہے اور ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے۔