چھوٹے انتظامی یونٹ مسئلے کا حل نہیں،لیگی رہنما نے آزاد کشمیر کی مثال دے دی

پاکستان میں اصل مسئلہ انتظامی یونٹس کا حجم نہیں بلکہ ریاست کا نوآبادیاتی طرزِ حکمرانی ہے

August 1, 2026 · قومی

اسلام آباد: مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما اور سابق وفاقی وزیر انجینئر خرّم دستگیر خان نے کہا ہے کہ صرف چھوٹے انتظامی یونٹس قائم کرنا بہتر طرزِ حکمرانی کی ضمانت نہیں۔ ان کے بقول آزاد جموں و کشمیر اس کی واضح مثال ہے، جہاں نسبتاً کم آبادی کے باوجود حکمرانی کے مسائل موجود ہیں۔

اپنے بیان میں خرّم دستگیر خان نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر کی آبادی تقریباً 45 لاکھ ہے، جو ضلع گوجرانوالہ کی آبادی سے بھی کم ہے، تاہم وہاں قانون ساز اسمبلی، صدر، وزیر اعظم، سپریم کورٹ اور الیکشن کمیشن سمیت مکمل حکومتی ڈھانچہ موجود ہونے کے باوجود گورننس کے چیلنجز برقرار ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں اصل مسئلہ انتظامی یونٹس کا حجم نہیں بلکہ ریاست کا نوآبادیاتی طرزِ حکمرانی ہے، جو عوام کی خدمت کے بجائے ان پر حکمرانی کے لیے تشکیل دیا گیا تھا۔

سابق وفاقی وزیر نے زور دیا کہ ملک میں تحصیل، ضلع، صوبے اور وفاق کی سطح پر بااختیار مقامی حکومتوں کا مؤثر نظام قائم کرنے اور ریاستی ڈھانچے کی ازسرِنو تشکیل کی ضرورت ہے تاکہ عوام کو بہتر اور جوابدہ حکمرانی فراہم کی جا سکے۔