پیپلز پارٹی نے وزیر داخلہ محسن نقوی کے استعفے کا مطالبہ کر دیا
نئے صوبوں کی بات غیر آئینی قرار، جمہوریت اور آئین کی بالادستی پر زور
فائل فوٹو
پیپلز پارٹی سندھ کے صدر نثار احمد کھوڑو نے وفاقی وزیر داخلہ کی جانب سے ہائبرڈ نظام کی حمایت، موجودہ نظام کے کولیپس ہونے اور نئے صوبوں کی باتوں کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ سے عہدہ چھوڑنے کا مطالبہ کردیا۔
نثار کھوڑو نے یہ مطالبہ ہفتے کے روز معروف بزنس مین سعید ایس محمد کی رہائش گاہ پر پرہجوم پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر بزنس مین سعید ایس محمد نے پیپلز پارٹی میں شمولیت کا اعلان کیا، جبکہ جنرل سیکریٹری وقار مہدی، سعید غنی، جاوید ناگوری اور دیگر رہنما بھی موجود تھے۔
نثار کھوڑو نے نئے صوبوں سے متعلق آئینی پوزیشن بیان کرتے ہوئے کہا کہ آئین میں نئے صوبوں کے قیام کا طریقہ کار وضع کیا گیا ہے، جس کے مطابق متعلقہ صوبائی اسمبلی کی دو تہائی اکثریت سے قرارداد منظور ہونے تک نیا صوبہ نہیں بن سکتا۔
انہوں نے کہا کہ ماضی میں پنجاب میں نئے صوبے کے لیے اسمبلی نے قرارداد منظور کی تھی، اس لیے اگر نیا صوبہ بنانا ہے تو پنجاب میں بنایا جائے، تاہم سندھ میں نئے صوبے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔
پیپلز پارٹی سندھ کے صدر نے کہا کہ ملک کسی غیر آئینی اقدام کا متحمل نہیں ہوسکتا، جبکہ جمہوریت کے تسلسل میں ہی تمام مسائل کا حل ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر وفاقی وزیر داخلہ جمہوری نظام کو ناکام اور ہائبرڈ نظام کی تعریف کر رہے ہیں تو پھر وہ ایوان اور وفاقی حکومت میں کیوں بیٹھے ہیں۔
نثار کھوڑو نے کہا کہ یہ لوگ شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادار بن کر جمہوریت کے انجن کو خراب کر رہے ہیں، اس لیے افواج پاکستان اور سیاست کو بدنام کرنے والوں کے پاس اہم عہدہ نہیں ہونا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ جمہوری نظام کو ناکام قرار دینے کی باتیں آئین کے خلاف ہیں، اور اگر غیر آئینی باتیں کی جائیں گی تو ایسے لوگ قوم کے مجرم تصور ہوں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ نئے صوبے کی باتوں کے بعد سندھ کی کسی گلی میں نکل کر دکھائیں تو انہیں صورتحال کا اندازہ ہوجائے گا۔
پیپلز پارٹی سندھ کے صدر نثار کھوڑو نے کہا ہے کہ وزارت داخلہ جیسی اہم وزارت محسن نقوی کے پاس نہیں ہونی چاہیے۔ محسن نقوی کی جانب سے مزید صوبوں کی تجویز پر اظہار برہمی کرتے ہوئے کھوڑو نے کہا کہ وہ نہ پیپلز پارٹی کے ہیں اور نہ ہی نواز لیگ ہے۔ #MohsinNaqvi #Sindh #نئے_صوبے… pic.twitter.com/Sju8sMYCG1
— Daily Ummat (@ummatdigitalpk) August 1, 2026
نثار کھوڑو نے کہا کہ وفاقی وزیر داخلہ کو وزیراعظم بننے کا شوق ہو سکتا ہے، تاہم وہ افواج پاکستان کا نام لے کر سیاست میں کھلبلی مچا رہے ہیں، جبکہ افواج پاکستان سیاست سے لاتعلقی کا بیان دے چکی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جن کی پیروی کرکے وفاقی وزیر داخلہ بیانات دے رہے ہیں، ان کی ملک میں 50 سالوں سے حکومتیں رہی ہیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ ایک طرف ملک قرضوں پر چل رہا ہے اور دوسری جانب 22 صوبے بنانے کی بات کی جا رہی ہے، تو کیا 22 صوبوں، وزرائے اعلیٰ اور دفاتر کے اخراجات ملکی معیشت برداشت کرسکتی ہے؟
نثار کھوڑو نے کہا کہ ہمیں کیڑے مکوڑے اور کاکروچ سمجھا جا رہا ہے، لیکن اگر یہ کاکروچ نکلے تو ان کے خلاف ہی نکلیں گے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کے ساتھ شروع دن سے سازشیں ہوتی رہی ہیں، ملک کو آئین دینے والی منتخب قیادت کا تختہ الٹا گیا، شہید بھٹو کو پھانسی دی گئی اور ماضی میں کسی وزیراعظم کو اپنی مدت پوری نہیں کرنے دی گئی۔
نثار کھوڑو نے کہا کہ ماضی میں ملک میں مارشل لا نافذ کرکے عوام کو فیصلے کرنے سے روکا گیا، آئین توڑا گیا اور 58 ٹو بی کے ذریعے جمہوری حکومتوں کو گھر بھیجا جاتا رہا، جبکہ بڑی مشکل سے آئین سے 58 ٹو بی کی شق ختم کرائی گئی۔
انہوں نے کہا کہ ملک میں 1958 میں مارشل لا لگایا گیا، تاہم اس سے پہلے ون یونٹ نافذ کرکے صوبوں کی حیثیت ختم کی گئی، اور مارشل لا لگانے والوں نے ایک طرف انتخابات کرائے تو دوسری طرف آدھا ملک ٹوٹ گیا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں جمہوریت کے علاوہ کوئی اور نظام نہیں چل سکتا، آئین کی بالادستی اور جمہوریت کا تسلسل ہی مسائل کا حل ہے۔
ایک سوال کے جواب میں نثار کھوڑو نے کہا کہ خالد مقبول صدیقی کو مصطفیٰ کمال سے نہیں ڈرنا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جلال پور کینال کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل (سی سی آئی) میں زیر التوا ہے اور اجلاس ہونے پر یہ معاملہ اٹھایا جائے گا۔
اس موقع پر بزنس مین سعید محمد نے پیپلز پارٹی میں شمولیت کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ وہ صدر آصف علی زرداری اور چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی قیادت پر اعتماد کرتے ہوئے پیپلز پارٹی میں شامل ہو رہے ہیں۔ نثار کھوڑو نے انہیں پارٹی میں شامل ہونے پر خوش آمدید کہا۔