مانسہرہ میں قتل ہونے والے3 سگے بھائیوں کی نمازِ جنازہ ادا،ملزمان کی گرفتاری کا مطالبہ
رشتے کےتنازعے پر قتل ہونے والے تین بھائی سپردِ خاک،سیاسی و سماجی شخصیات کی بڑی تعدادشریک
فائل فوٹو
مانسہرہ تھانہ لاری اڈہ کی حدود کرکالہ بستی شیر خان میں رشتے کے تنازعے پر فائرنگ سے جاں بحق ہونے والے تین سگے بھائیوں کی نمازِ جنازہ ادا کر دی گئی، جبکہ انہیں آبائی قبرستان میں سپردِ خاک کر دیا گیا۔ اس موقع پر ورثاء اور اہلِ علاقہ نے قاتلوں کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔
تفصیلات کے مطابق جمعہ کی شب کرکالہ میں رشتے کے تنازعے پر مخالفین مبینہ طور پر متاثرہ خاندان کے گھر میں داخل ہوئے اور اندھا دھند فائرنگ کر دی، جس کے نتیجے میں تین سگے بھائی موقع پر جاں بحق جبکہ ایک معصوم بچہ شدید زخمی ہو گیا۔
پولیس کے مطابق جاں بحق ہونے والوں کی شناخت محمد نذیر، کثیر اور گل نواز ولد حیات خان کے نام سے ہوئی ہے۔ زخمی بچے کو ابتدائی طبی امداد کے بعد کنگ عبداللہ ہسپتال منتقل کیا گیا، جہاں اس کی حالت تشویشناک بتائی گئی۔
واقعے کے بعد پولیس موقع پر پہنچی، لاشوں کو پوسٹ مارٹم کے لیے کنگ عبداللہ ہسپتال منتقل کیا گیا اور علاقے کو گھیرے میں لے کر ملزمان کی تلاش شروع کر دی گئی۔ ابتدائی تفتیش کے مطابق واقعہ پرانے رشتے کے تنازعے کا نتیجہ ہے۔ ڈی پی او مانسہرہ نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے ایس پی انویسٹی گیشن کو ملزمان کی جلد از جلد گرفتاری کے احکامات جاری کیے ہیں، جبکہ پولیس کا کہنا ہے کہ ملوث افراد کو قانون کی گرفت میں لا کر قرار واقعی سزا دلوائی جائے گی۔
بعد ازاں تینوں مقتولین کی نمازِ جنازہ ممتاز عالم دین مولانا فیض الباری نے پڑھائی۔ نمازِ جنازہ میں ایم پی اے و چیئرمین ڈیڈک کمیٹی کولئی پالس کوہستان سردار محمد ریاض، سابق ایم پی اے و چیئرمین ڈیڈک کمیٹی مانسہرہ سردار ظہور احمد، صوبائی نائب صدر پاکستان تحریک انصاف کمال سلیم خان سواتی، ممتاز عالم دین مولانا قاضی اسرائیل گڑنگی، مولانا قاضی نعمان گڑنگی، سیاسی و سماجی شخصیت حاجی شیر خان، سابق حوالدار گل محمد خان سمیت سیاسی، سماجی، کاروباری، مذہبی حلقوں اور ہر مکتبۂ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔
شرکائے جنازہ نے واقعے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ملزمان کی فی الفور گرفتاری کا مطالبہ کیا۔ نمازِ جنازہ کے بعد تینوں سگے بھائیوں کو ان کے آبائی قبرستان میں سپردِ خاک کر دیا گیا۔