بھارت فلسطینیوں کا بھی قاتل، اسرائیل کو ہتھیاروں کی 2596 کھیپیں بھیجیں، ایمنسٹی

ہتھیاروں کی برآمد نسل کشی کے ضابطوں اور جنیوا کنونشن کی خلاف ورزی ہے، بند کی جائے، عالمی تنظیم

August 1, 2026 · اہم خبریں, بام دنیا

ایمنسٹی انٹرنیشنل نے دعویٰ کیا ہے کہ بھارت نے غزہ میں اسرائیلی جنگ کے دوران اسرائیل کو ہتھیاروں، گولہ بارود اور دیگر جنگی سازوسامان کی کم از کم 2596 کھیپیں بھیجیں، جبکہ تنظیم نے نئی دہلی سے ہتھیاروں کی برآمد فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔

انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ بھارت نے اسرائیل کو ہتھیاروں کی فراہمی اس حقیقی خطرے کے باوجود جاری رکھی کہ ان کا استعمال فلسطینیوں کے خلاف جاری نسل کشی میں کیا جا سکتا ہے۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل کی سیکریٹری جنرل این یس کالامار نے بھارت سے مطالبہ کیا کہ وہ اسرائیل کو ہتھیاروں کی برآمد بند کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ مکمل معلومات کے باوجود اسرائیل کو ہتھیار برآمد کرنا بھارت کی نسل کشی کے ضابطوں اور جنیوا کنونشن کے تحت اپنی ذمہ داریوں کی واضح خلاف ورزی ہے۔

’میڈ اِن انڈیا: اسرائیل کو سپلائی ہونے والے ہتھیار اور گولہ بارود‘ کے عنوان سے جاری رپورٹ میں ایمنسٹی نے کہا ہے کہ اس نے 23 اکتوبر 2023 سے بھارت سے اسرائیل پہنچنے والے ہتھیاروں، گولہ بارود اور دیگر جنگی سازوسامان کی 2596 کھیپوں یا کنسائنمنٹس کا جائزہ لیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق بھارتی حکومت نے اسرائیل کے دفاعی شعبے کے ساتھ گہری اور منافع بخش شراکت داری قائم کر رکھی ہے اور بھارت اسرائیل کے جنگی آپریشن کے لیے دفاعی سپلائی لائن میں معاونت کرتا رہا ہے۔

دوسری جانب بھارت نے ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ دوسرے ممالک کے ساتھ دفاعی تجارت قوانین اور مسلمہ ضابطوں کے تحت کرتا ہے۔

بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے نیوز کانفرنس میں اسرائیل کو برآمد کیے جانے والے ہتھیاروں کی مقدار یا نوعیت پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت میں دفاعی تجارت کے لیے مؤثر قانونی فریم ورک اور ضابطہ کار نظام موجود ہے۔

رندھیر جیسوال کے مطابق بھارت مختلف ممالک کو ان کی فوجی ضروریات پوری کرنے کے لیے سازوسامان اور ٹیکنالوجی فراہم کرتا ہے اور یہ عمل ملکی قوانین و ضوابط کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی ذمہ داریوں کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا جاتا ہے۔