لوئر چترال میں سیلابی ریلے سے تباہی،متعدد مکانات متاثر، کئی علاقوں کا زمینی رابطہ منقطع
سیلاب سے کم از کم 26 مکانات متاثر ہوئے ہیں، جبکہ قابلِ کاشت زرعی اراضی اور دیگر املاک کو بھی نقصان پہنچا ہے
خیبر پختونخوا کے ضلع لوئر چترال میں شدید بارشوں کے بعد جغور گول نالہ میں آنے والے سیلاب نے متعدد علاقوں میں تباہی مچا دی۔ سیلابی پانی آبادی میں داخل ہونے سے درجنوں مکانات اور ایک مسجد کو نقصان پہنچا، جبکہ ایک رابطہ پل بہہ جانے سے کئی دیہات کا زمینی رابطہ منقطع ہو گیا۔
ضلعی انتظامیہ کے مطابق سیلاب سے کم از کم 26 مکانات متاثر ہوئے ہیں، جبکہ قابلِ کاشت زرعی اراضی اور دیگر املاک کو بھی نقصان پہنچا ہے۔ متاثرہ علاقوں میں نقصانات کا تخمینہ لگانے کا عمل جاری ہے۔
واقعے کے بعد ضلعی انتظامیہ، پولیس، ریسکیو 1122 اور فلاحی اداروں کی ٹیمیں فوری طور پر متاثرہ علاقوں میں پہنچ گئیں، جہاں امدادی اور بحالی کی سرگرمیاں جاری ہیں۔ حکام متاثرہ خاندانوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے اور ضروری امداد کی فراہمی میں مصروف ہیں۔
ڈپٹی کمشنر راؤ حاشم عظیم اور ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر ساجد علی یوسفزئی نے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا اور امدادی کارروائیوں کا جائزہ لیا۔ ریسکیو 1122 کی ٹیمیں مقامی انتظامیہ کے ساتھ مل کر امدادی سرگرمیوں میں حصہ لے رہی ہیں۔
دوسری جانب محکمہ موسمیات نے خیبر پختونخوا کے بالائی اضلاع میں مزید بارشوں کی پیش گوئی کرتے ہوئے شہریوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق چترال، دیر، سوات، کوہستان، شانگلہ، مانسہرہ، بٹگرام، ملاکنڈ، نوشہرہ، چارسدہ، مردان، ایبٹ آباد، کرم، خیبر، باجوڑ، ڈیرہ اسماعیل خان اور بنوں میں گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے، جبکہ بعض علاقوں میں موسلا دھار بارش بھی ہو سکتی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران دیر میں 61 ملی میٹر، پشاور اور بالاکوٹ میں 32 ملی میٹر، مالم جبہ میں 25 ملی میٹر جبکہ چراٹ اور کاکال میں 22 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی، جس کے باعث ندی نالوں میں طغیانی اور مقامی سیلاب کا خطرہ برقرار ہے۔