ایران اور امریکہ کے درمیان ثالث پاکستان ہی ہے , اسماعیل بقائی
خطے کے ممالک صورتِ حال کو مزید بگڑنے سے روکنے کے لیے کوششیں کرنا چاہتے ہیں , پریس کانفرنس
فائل فوٹو
تہران: ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کا کہنا ہے کہ ’ایران اور امریکہ سے متعلق معاملات میں پاکستان ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے۔ جہاں ضرورت ہو قطر مدد کرتا ہے۔‘
نیوز کانفرنس کے دوران بقائی نے زور دیا کہ مذاکرات میں کوئی نیا ثالث شامل نہیں اور کہا کہ چین کو ’خطے میں تنازع اور عدم تحفظ میں اضافے‘ پر تشویش ہے۔ہمارے چینی دوست صورتِ حال کو مزید بگڑنے سے روکنے کے لیے اپنی صلاحیتیں استعمال کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
انھوں نے یہ بھی کہا کہ اس حوالے سے چین، کئی دیگر ممالک کی طرح، مدد کر رہا ہے۔ترجمان کے مطابق ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ محض ایک ملک تک محدود نہیں۔
انھوں نے صحافیوں کو بتایا کہ یہ جنگ پورے خطے کے خلاف اور خطے کے تمام ممالک کی سلامتی کے خلاف ہے۔
بقائی نے مزید کہا کہ ان پانچ مہینوں میں ہم نے خود دیکھا ہے کہ خطے میں امریکی فوجی موجودگی اور خلیج فارس کے جنوبی کنارے پر واقع ممالک کی سرزمین اور تنصیبات کے استعمال نے خطے کے تمام ممالک کے لیے عدم تحفظ اور عدم استحکام میں اضافہ کیا ہے۔’لہٰذا یہ فطری بات ہے کہ خطے کے ممالک اس صورتِ حال کو مزید بگڑنے سے روکنے کے لیے کوششیں کرنا چاہتے ہیں۔
دریں اثنا انھوں نے کہا کہ ایران فی الحال امریکہ سے کوئی مذاکرات نہیں کر رہا۔ ہم ان دنوں نہ کسی وفد کی میزبانی کرنے جا رہے ہیں اور نہ ہی کسی ملک کے مہمان بننے جا رہے ہیں۔