امریکا،ایران اور عمان آبنائے ہرمز پر 60 روزہ عبوری معاہدے کے قریب

معاہدے کا مقصد خطے میں کشیدگی کم کرنا اور عالمی تجارت کو معمول پر لانا ہے۔

August 5, 2026 · اہم خبریں

واشنگٹن/تہران/مسقط: امریکی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق امریکا، ایران اور عمان آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت بحال کرنے کے لیے 60 روزہ عبوری معاہدے کے قریب پہنچ گئے ہیں، جس کا مقصد خطے میں کشیدگی کم کرنا اور عالمی تجارت کو معمول پر لانا ہے۔

رپورٹس کے مطابق مجوزہ معاہدے کے تحت آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کی آمدورفت کے لیے عارضی انتظامات کیے جائیں گے، جن کی مدت ابتدائی طور پر 60 روز ہوگی، تاہم ضرورت پڑنے پر اس میں توسیع بھی کی جا سکے گی۔

اطلاعات کے مطابق خلیج کی جانب جانے والے بحری جہاز ایرانی پانیوں سے گزرنے والا شمالی راستہ استعمال کریں گے، جبکہ بحیرہ عرب کی جانب روانہ ہونے والے جہاز ایران کے ساتھ رابطہ کاری کے تحت عمانی پانیوں سے جنوبی راستے سے سفر کریں گے۔

رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ عبوری معاہدے کے دوران آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں پر کسی قسم کی اضافی فیس عائد نہیں کی جائے گی۔ اس کے علاوہ فریقین نے مرکزی بحری راستے سے بارودی سرنگیں ہٹانے کے لیے 30 روز کے اندر اقدامات کرنے پر بھی اتفاق کیا ہے۔

ذرائع کے مطابق مستقل معاہدے پر مذاکرات جاری رہنے کے دوران مرکزی بحری گزرگاہ کو تجارتی جہازوں کی آمدورفت کے لیے کھلا رکھا جائے گا۔

میڈیا رپورٹس میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ گزشتہ چند روز کے دوران امریکی نمائندے اسٹیو وٹکوف، ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور عمانی حکام کے درمیان متعدد رابطے ہوئے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ نے اصولی طور پر معاہدے سے اتفاق کیا ہے، تاہم اس پر حتمی منظوری ایران کی سپریم قیادت اور قومی سلامتی کونسل سے درکار ہوگی۔

رپورٹس کے مطابق عمان کی میزبانی میں ہونے والی سفارتی کوششوں میں قطر، پاکستان اور سعودی عرب کے حکام نے بھی ثالثی کردار ادا کیا۔

یاد رہے کہ اس سے قبل امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو بھی یہ اشارہ دے چکے ہیں کہ ایران کے ساتھ آبنائے ہرمز سے متعلق مذاکرات میں پیش رفت ہوئی ہے اور جلد کسی معاہدے تک پہنچنے کی امید ہے۔