پاکستان میں بین الاقوامی میڈیا رپورٹنگ پر نئی پابندیاں ، صحافتی تنظیموں کی تنقید

عوام آزاد رپورٹنگ کے لیے بین الاقوامی میڈیا کی طرف دیکھتے ہیں،مصطفیٰ نواز کھوکھر

August 5, 2026 · قومی

فائل فوٹو

پاکستانی حکام نے ملک میں بین الاقوامی میڈیا رپورٹنگ کے لیے نئی پابندیاں عائد کر دی ہیں، جس پر صحافتی تنظیموں کی جانب سے سخت تنقید کی جا رہی ہے۔

غیر ملکی میڈیا کے لیے کام کرنے والے تمام افراد، جن میں پاکستانی شہری بھی شامل ہیں، کو اب اسلام آباد، کراچی اور لاہور کے علاوہ ملک کے کسی بھی حصے سے رپورٹنگ کرنے کے لیے اجازت حاصل کرنا ہوگی۔

ان پابندیوں کے باعث پاکستان کے بیشتر علاقوں میں غیر ملکی میڈیا کی زمینی رپورٹنگ حکام کی اجازت اور مقرر کردہ وقت سے مشروط ہو جائے گی۔ پاکستان اس وقت ورلڈ پریس فریڈم انڈیکس میں 180 ممالک میں 153ویں نمبر پر ہے۔

سیاسی مبصر مصطفیٰ نواز کھوکھر نے کہا کہ یہ ہدایات بین الاقوامی میڈیا کا گلا گھونٹنے کے مترادف ہیں، جس کے لیے پہلے ہی جگہ محدود ہوتی جا رہی ہے۔

میڈیا پر پابندیاں نئی بات نہیں ہیں، تاہم مقامی میڈیا کو اکثر بین الاقوامی اداروں کے مقابلے میں زیادہ دباؤ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

کھوکھر نے کہا کہ عوام آزاد رپورٹنگ کے لیے بین الاقوامی میڈیا کی طرف دیکھتے ہیں۔ ان کے مطابق پابندیاں صرف غلط معلومات اور جعلی خبروں کے پھیلاؤ کے لیے مزید گنجائش پیدا کرتی ہیں۔

پاکستانی حکومت کا اتوار کو جاری کی گئی یہ ہدایات میڈیا کو محدود کرنے کے لیے نہیں بلکہ میڈیا کی تصدیق، رسائی میں سہولت فراہم کرنے اور رپورٹنگ سے متعلق ضروریات کو مربوط کرنے کے لیے ایک انتظامی طریقہ کار فراہم کرنے کے مقصد سے جاری کی گئی ہیں۔