عبداللہ طاہر قتل کیس میں نیا انکشاف،ڈرائیور مبینہ ہنی ٹریپ کا شکار

مبینہ طور پر یہ رابطہ واقعے سے تقریباً دو ماہ قبل شروع ہوا، جس کے بعد ڈرائیور سے مقتول کی روزمرہ سرگرمیوں سے متعلق معلومات حاصل کی جاتی رہیں۔

August 6, 2026 · قومی

لاہور: پی ٹی آئی کے رہنما عبداللہ طاہر قتل کیس کی تحقیقات میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ تفتیشی ذرائع کے مطابق ملزمان نے مبینہ طور پر مقتول کی نقل و حرکت جاننے کے لیے ان کے ڈرائیور کو ہنی ٹریپ کیا تھا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈرائیور اصغر سے ایک 22 سالہ خاتون نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹک ٹاک کے ذریعے رابطہ کیا۔ مبینہ طور پر یہ رابطہ واقعے سے تقریباً دو ماہ قبل شروع ہوا، جس کے بعد ڈرائیور سے مقتول کی روزمرہ سرگرمیوں سے متعلق معلومات حاصل کی جاتی رہیں۔

پولیس کے مطابق ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ واردات کے روز بھی ڈرائیور اور خاتون کے درمیان ویڈیو کال ہوئی، جس کے دوران عبداللہ طاہر کی کلینک میں موجودگی اور ان کے ساتھ سیکیورٹی اہلکار نہ ہونے کی مبینہ تصدیق کی گئی۔

تفتیشی ذرائع کے مطابق حملہ آور اس دوران پہلے ہی گرومانگٹ روڈ کے قریب موجود تھے، جبکہ مقتول کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے کے لیے مبینہ طور پر ڈرون کیمرے کا بھی استعمال کیا گیا۔

سی سی ڈی پولیس کے مطابق ڈرائیور سے پوچھ گچھ جاری ہے اور اس نے دورانِ تفتیش ہنی ٹریپ ہونے کا اعتراف کیا ہے۔ تاہم پولیس کا کہنا ہے کہ کیس کی مزید تفتیش جاری ہے اور مرکزی ملزم ارسلان تاحال گرفتار نہیں ہو سکا۔

حکام کے مطابق تحقیقات کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے اور شواہد کی روشنی میں مزید کارروائی کی جائے گی۔