ہمیں وزیراعظم سےکوئی شکایت نہیں،لڑائی دراصل اسلام آباد اور لاہور میں ہے،بلاول
اسلام آباد اور لاہور کی لڑائی ہے، وزیراعظم کے اردگرد لوگوں کی نیت صاف نہیں
فائل فوٹو
چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ انہیں وزیراعظم سے کوئی شکایت نہیں، اصل لڑائی کچھ اور ہے، یہ ان کے خاندان کا مسئلہ ہے، وہ لڑنا چاہتے ہیں تو لڑیں۔
آزاد کشمیر باغ میں پیپلز پارٹی کے جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ ن لیگ کا ایک خاص حصہ ایسا ہے جو ن لیگ کے منصوبے ناکام کراتا ہے اور اپوزیشن سمیت اتحادیوں سے بھی لڑانا چاہتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ میں آپ کا اتحادی ہوں، اسلام آباد میں بیٹھا ہوں، یہ کیا بات ہے کہ میرے ووٹ چوری کیے جائیں، کارکن کو شہید کیا جائے، میرے ایم این اے کے بازو میں گولی ماری جائے اور آزاد کشمیر کے صدر پر حملہ ہو، یہ کوئی اتحاد نہیں، آخر مسئلہ کیا ہے۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ ن لیگ اور پیپلز پارٹی کی لڑائی تو ہوتی رہتی ہے، اصل لڑائی کچھ اور ہے۔ اصل لڑائی اسلام آباد اور لاہور کی ہے، یہ ان کے خاندان کا اپنا مسئلہ ہے، وہ لڑنا چاہتے ہیں تو لڑیں۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کے اردگرد موجود لوگوں کی نیت صاف نہیں، ن لیگ حکومت کی الٹی گنتی شروع ہو چکی ہے اور یہ گنتی پیپلز پارٹی نے شروع نہیں کی بلکہ ان کے اپنے لوگوں نے شروع کروائی۔ جو لوگ کہہ رہے ہیں کہ حکومت پانچ سال پورے کرے گی، انہیں خود یقین نہیں۔
چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ کبھی ایسا نہیں ہوا کہ 50 دن تک انٹرنیٹ بند ہو، کشمیر کی تاریخ میں اتنا سخت وقت کبھی نہیں دیکھا۔ حکومت اور احتجاج کرنے والوں سے تعلق نہیں، بس چاہتے ہیں کہ عوام کو حقوق ملیں۔ مشکل وقت کا بوجھ پونچھ ڈویژن کے عوام اٹھا رہے ہیں۔
نئے صوبوں کے معاملے پر بلاول بھٹو نے کہا کہ یہ تجویز اس وقت ہوگی جب آپ کے پاس بنیادی حقوق موجود ہوں۔ جو ملک اپنے عوام پر بھروسا نہ کرے، عوام اس پر کیسے بھروسا کرے گی؟ یہ نظام ناکام نہیں ہوا بلکہ اسے ناکام کرایا گیا۔
انہوں نے کہا کہ کشمیر ایک ہے تو الیکشن بھی ایک ہی دن ہونے چاہیے تھے، تاریخ میں پہلی بار ہوا ہے کہ چھ مرحلوں میں انتخابات ہوئے۔ میں عوام کو چوری شدہ الیکشن واپس دلاؤں گا۔ ن لیگ کی یہ غلط فہمی ہے کہ وہ آزاد کشمیر میں حکومت بنا لے گی، یہ نہ ٹروتھ کمیشن بنانے کو تیار ہیں اور نہ شفاف الیکشن کے لیے۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ اگر ہم سے لڑائی چھیڑنی ہے تو چھیڑیں، میں تو چاہوں گا کہ ہمیں اس حکومت سے آزاد کریں۔ اگر میں اپوزیشن میں ہوتا تو انہیں لگ پتا جاتا۔ ن لیگ ووٹ کی عزت کرے، جس کا ووٹ ہے اس کو پہنچے۔ ہمیں دھاندلی اور خونی الیکشن نامنظور ہیں۔