فیلڈ مارشل سید عاصم منیرمکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے’’معمار‘‘قرار

انہوں نے متعدد اہم دفاعی معاہدوں کی قیادت کر کے پاکستان کی سفارتی اور دفاعی حیثیت کو عالمی سطح پر مزید مستحکم کیا۔

August 7, 2026 · اہم خبریں, قومی
فائل فوٹو

فائل فوٹو

اسلام آباد:پاکستان کے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو’’ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے‘‘ کا ’’حقیقی اصل معمار‘‘ قرار دے دیا گیا۔

تفصیلات کے مطابق  فیلڈ مارشل عاصم منیر کو مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کا حقیقی معمار قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ انہوں نے متعدد اہم دفاعی معاہدوں کی قیادت کر کے پاکستان کی سفارتی اور دفاعی حیثیت کو عالمی سطح پر مزید مستحکم کیا اور ملک کو علاقائی سلامتی کے ایک کلیدی ستون کے طور پر نمایاں کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔

فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں ہونے والے دفاعی اقدامات نے نہ صرف پاکستان کے سٹریٹجک مفادات کو تقویت دی بلکہ اہم علاقائی شراکت دار ممالک کے ساتھ دفاعی تعاون کو نئی جہت دی۔ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ ان اہم کامیابیوں میں شامل ہے جس نے پاکستان کے جغرافیائی و سیاسی کردار کو مزید مؤثر بنایا اور علاقائی سلامتی کے نظام میں اس کی اہمیت کو اجاگر کیا۔

فیلڈ مارشل عاصم منیر کو اس معاہدے کا اصل معمار قرار دیا جا رہا ہے۔ ان کی قیادت میں پاکستان نے پہلے سعودی عرب کے ساتھ ستمبر 2025ء میں اسٹریٹجک باہمی دفاعی معاہدہ طے کیا تھا، جو اب ترکیہ کو شامل کر کے سہ فریقی شکل اختیار کر گیا ہے۔ ان کی پیشہ ورانہ دفاعی تعاون، فوجی سے فوجی رابطوں اور ریاستی دانشمندی نے اس کامیابی کو ممکن بنایا۔

یہ کامیابی فیلڈ مارشل عاصم منیر کے امن و استحکام کے لیے مخلصانہ عزم، واضح قومی وژن اور ریاستی معاملات کو مؤثر انداز میں آگے بڑھانے کی صلاحیت کا نتیجہ ہے۔  انہوں نے قومی مفاد اور خطے میں پائیدار امن کو ہمیشہ اپنی حکمت عملی کا محور بنایا، جس کے باعث پاکستان کو بین الاقوامی سطح پر زیادہ اعتماد اور احترام حاصل ہوا۔

فیلڈ مارشل عاصم منیر نے پاکستان کی پیشہ ورانہ عسکری صلاحیت اور دفاعی ساکھ کو اعلیٰ سطح کی سفارتی قوت میں تبدیل کیا۔ اس حکمت عملی کے نتیجے میں عالمی قیادت کے مختلف فورمز پر پاکستان کے ساتھ اعتماد میں اضافہ ہوا اور دفاعی تعاون کو سفارتی تعلقات مضبوط بنانے کے لیے مؤثر انداز میں استعمال کیا گیا۔

فیلڈ مارشل سید عاصم منیر  کی قیادت میں دفاعی اداروں کو ایک قابلِ اعتماد اور مستحکم ستون کے طور پر پیش کیا گیا، جس سے شراکت دار ممالک اور اسلامی دنیا کے ساتھ سٹریٹجک ہم آہنگی میں اضافہ ہوا۔ عسکری سطح پر اعلیٰ درجے کے روابط اور دفاعی سفارت کاری نے نہ صرف دوطرفہ تعلقات کو فروغ دیا بلکہ پاکستان کے لیے نئی سفارتی راہیں بھی ہموار کیں۔

فوج سے فوج کے درمیان تعاون، مشترکہ دفاعی منصوبوں اور اعلیٰ سطح روابط کو مؤثر انداز میں بروئے کار لا کر پاکستان کی قومی طاقت کو عالمی سطح پر مثبت انداز میں اجاگر کیا گیا، جس سے ملک کی دفاعی اور سفارتی پوزیشن مزید مضبوط ہوئی۔

فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں ہونے والے یہ اقدامات پاکستان کی علاقائی اور عالمی اہمیت میں اضافے، دفاعی شراکت داری کے فروغ اور خطے میں امن و استحکام کے لیے ملک کے کردار کو مزید مستحکم کرنے کی سمت ایک اہم پیش رفت قرار دی جا رہی ہے۔