مکہ دفاعی معاہدہ کئی دہائیوں بعد مسلم دنیا کے لیے بڑا سنگ میل

تجزیہ کاروں نے اہم جیو پولیٹیکل پیش رفت قرار دے دی

August 8, 2026 · امت خاص

 

پاکستان ، سعودیہ اور ترکیہ میں دفاعی معاہدے کو تجزیہ کاروں نے مسلم دنیا کے لیے کئی دہائیوں بعد اہم سنگ میل قرار دیا ہے۔

 

اینکر پرسن کامران خان کے مطابق اشوک سواین بالکل درست کہہ رہے ہیں! ایک نیا اسلامی سیکیورٹی آرکیٹیکچر شکل اختیار کر رہا ہے۔

 

مکہ جوائنٹ ڈیفنس ایگریمنٹ مسلم دنیا میں گزشتہ کئی دہائیوں میں سب سے اہم جیو پولیٹیکل پیش رفت پر مبنی واقعات میں سے ایک بن سکتا ہے۔

 

پاکستان کے لیے یہ اس کے تیزی سے بڑھتے ہوئے عالمی پروفائل میں ایک اور بڑا سنگ میل ہے۔ اس سے پہلے مئی 2025 میں بھارتی جارحیت کے خلاف اس کی فتح اور امریکہ،ایران امن ڈپلومیسی میں اس کے وسیع پیمانے پر تسلیم شدہ کردار کے بعد آج اسلام آباد ایک منفرد اسٹریٹجک پوزیشن رکھتا ہے—وہ سعودی عرب، ترکی اور چین کے ساتھ مضبوط شراکت داریاں برقرار رکھے ہوئے ہے، واشنگٹن اور تہران دونوں کے ساتھ تعلقات بھی قائم رکھے ہوئے ہے۔

صحافی عامر الیاس رانا نے کہا کہ جو تبدیلی کی خواہشات پر لڈیاں ڈال رہے تھے وہ ذرا آج اہم ترین سہ ملکی معاہدے کو دیکھ کیں اور صبر کریں۔

 

وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں پاکستان کی سفارتی سرگرمیوں نے عالمی توجہ حاصل کی ہے۔ جب بھی وہ کسی اہم دوطرفہ ملاقات یا بین الاقوامی دورے پر جاتے ہیں، پاکستان کے لیے مثبت پیش رفت سامنے آتی ہے۔

 

سعودی عرب کے ساتھ دفاعی تعاون پر پیش رفت نے پہلے ہی دنیا کی نظریں پاکستان پر مرکوز کر دی تھیں، اور اب سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان کے مشترکہ اعلامیے کے بعد مسلم دنیا میں اس تعاون پر خاص توجہ دی جا رہی

۔

کالم نگار آصف محمود ایڈووکیٹ نے لکھا ہے کہ پاک ترکیہ سعودیہ معاہدہ کوئی معمولی چیز نہیں. یہ مسلم امہ کی تاریخ میں ایک انتہائی اہم پیش رفت ہے. انتہائی اہم.

 

دوسری جنگ عظیم کےبعد سے مسلمانوں پر جو ذلت مسلط ہو ئی ہے وہ اگر ختم ہوئی تو اس معاہدے کا شمار اس ذلت کے خاتمے کے اولین نقوش میں ہو گا.اور چونکہ یہ سب کچھ معرکہ حق کے بعد ممکن ہو رہا ہے تو اپ معرکہ حق کو سب سے پہلا نقش قرار دے سکتے ہیں. نشاۃ ثانیہ کا نقش اول۔

 

ان کاکہنا تھا کہ بہت بڑا کام ہو رہا ہے اس کےنتائج بھی بہت بڑے ہوں گے۔پاکستان ، سعودیہ اور ترکیہ میں دفاعی معاہدے کو تجزیہ کاروں نے مسلم دنیا کے لیے کئی دہائیوں بعد اہم سنگ میل قرار دیا ہے۔

اینکر پرسن کامران خان کے مطابق اشوک سواین بالکل درست کہہ رہے ہیں! ایک نیا اسلامی سیکیورٹی آرکیٹیکچر شکل اختیار کر رہا ہے۔

مکہ جوائنٹ ڈیفنس ایگریمنٹ مسلم دنیا میں گزشتہ کئی دہائیوں میں سب سے اہم جیو پولیٹیکل پیش رفت پر مبنی واقعات میں سے ایک بن سکتا ہے۔

پاکستان کے لیے یہ اس کے تیزی سے بڑھتے ہوئے عالمی پروفائل میں ایک اور بڑا سنگ میل ہے۔ اس سے پہلے مئی 2025 میں بھارتی جارحیت کے خلاف اس کی فتح اور امریکہ،ایران امن ڈپلومیسی میں اس کے وسیع پیمانے پر تسلیم شدہ کردار کے بعد آج اسلام آباد ایک منفرد اسٹریٹجک پوزیشن رکھتا ہے—وہ سعودی عرب، ترکی اور چین کے ساتھ مضبوط شراکت داریاں برقرار رکھے ہوئے ہے، واشنگٹن اور تہران دونوں کے ساتھ تعلقات بھی قائم رکھے ہوئے ہے۔
صحافی عامر الیاس رانا نے کہا کہ جو تبدیلی کی خواہشات پر لڈیاں ڈال رہے تھے وہ ذرا آج اہم ترین سہ ملکی معاہدے کو دیکھ کیں اور صبر کریں۔

وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں پاکستان کی سفارتی سرگرمیوں نے عالمی توجہ حاصل کی ہے۔ جب بھی وہ کسی اہم دوطرفہ ملاقات یا بین الاقوامی دورے پر جاتے ہیں، پاکستان کے لیے مثبت پیش رفت سامنے آتی ہے۔

سعودی عرب کے ساتھ دفاعی تعاون پر پیش رفت نے پہلے ہی دنیا کی نظریں پاکستان پر مرکوز کر دی تھیں، اور اب سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان کے مشترکہ اعلامیے کے بعد مسلم دنیا میں اس تعاون پر خاص توجہ دی جا رہی
۔
کالم نگار آصف محمود ایڈووکیٹ نے لکھا ہے کہ پاک ترکیہ سعودیہ معاہدہ کوئی معمولی چیز نہیں. یہ مسلم امہ کی تاریخ میں ایک انتہائی اہم پیش رفت ہے. انتہائی اہم.

دوسری جنگ عظیم کےبعد سے مسلمانوں پر جو ذلت مسلط ہو ئی ہے وہ اگر ختم ہوئی تو اس معاہدے کا شمار اس ذلت کے خاتمے کے اولین نقوش میں ہو گا.اور چونکہ یہ سب کچھ معرکہ حق کے بعد ممکن ہو رہا ہے تو اپ معرکہ حق کو سب سے پہلا نقش قرار دے سکتے ہیں. نشاۃ ثانیہ کا نقش اول۔

ان کاکہنا تھا کہ بہت بڑا کام ہو رہا ہے اس کےنتائج بھی بہت بڑے ہوں گے۔