میر رضا علی قتل کیس میں اصل میڈیکل بورڈ بحال، قبر کشائی آج ہوگی
بورڈ میں تبدیلی پر 24 گھنٹے سے جاری تنازع ختم ہوگیا، سی سی ٹی وی کے صرف منتخب حصے سامنے لائے گئے، وکیل
پراسرار حالات میں ہلاک ہونے والے 25 سالہ نوجوان تاجر میر رضا علی کی قبر کشائی سے متعلق تنازع ختم ہوگیا اور پولیس سرجن کراچی کی جانب سے تشکیل دیا گیا اصل خصوصی میڈیکل بورڈ بحال کر دیا گیا ہے۔
میر رضا علی کے اہلخانہ کے وکیل اور انسانی حقوق کے کارکن جبران ناصر نے جمعے کی شب سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ 24 گھنٹے کی کشمکش کے بعد اصل خصوصی میڈیکل بورڈ بحال کر دیا گیا ہے، جس کے بعد قبر کشائی ہفتے کی صبح متوقع ہے۔
جبران ناصر کے مطابق بحال کیا گیا میڈیکل بورڈ والدین کی کسی ذاتی پسند کی بنیاد پر نہیں بلکہ ان کا مطالبہ صرف یہ تھا کہ قانون اور ضابطۂ کار پر عمل کیا جائے۔
اس سے قبل جمعے کو میر رضا علی کی قبر کشائی اس وقت مؤخر کر دی گئی تھی جب اہلخانہ نے میڈیکل بورڈ میں راتوں رات تبدیلیوں پر اعتراض کرتے ہوئے اس پر عدم اعتماد کا اظہار کیا تھا۔
اہلخانہ کے مطابق عدالتی حکم کے بعد کراچی پولیس سرجن کی جانب سے تشکیل دیے گئے آٹھ رکنی خصوصی میڈیکل بورڈ میں اچانک تبدیلی کی گئی، جس سے نہ صرف ان کا اعتماد مجروح ہوا بلکہ قبر کشائی کے عمل کی شفافیت پر بھی سوالات اٹھے۔

جمعرات کو مقامی عدالت نے میر رضا علی کے والد کی درخواست پر ان کی قبر کشائی کی اجازت دیتے ہوئے موت کی ازسرنو تحقیقات کی راہ ہموار کی تھی۔ عدالت نے پولیس سرجن کراچی اور سیکریٹری صحت سندھ کو جلد از جلد میڈیکو لیگل بورڈ تشکیل دینے کی ہدایت کی تھی۔
تاہم جمعے کو جب متعلقہ عملہ، ڈاکٹرز اور اہلخانہ کے وکیل طارق روڈ سوسائٹی قبرستان پہنچے تو والدین نے نئے تشکیل دیے گئے میڈیکل بورڈ پر عدم اعتماد کا اظہار کیا، جس کے بعد قبر کشائی مؤخر کر دی گئی۔
جبران ناصر نے بی بی سی سے گفتگو میں الزام عائد کیا کہ سندھ حکومت کے ایک افسر نے اپنے اختیارات سے تجاوز کرتے ہوئے قبر کشائی کے لیے میڈیکل بورڈ تشکیل دیا، جو ان کے بقول قانون کے خلاف تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ ابتدائی نوٹیفکیشن کے بعد رات گئے ایک نیا نوٹیفکیشن جاری کیا گیا، جس میں سات ارکان کو تبدیل کرکے نئے نام شامل کیے گئے، جبکہ بعد میں تیسرے نوٹیفکیشن کے ذریعے دونوں بورڈز کو یکجا کرنے کی کوشش کی گئی۔
جبران ناصر کے مطابق عدالتی حکم کے بعد پولیس سرجن نے فارنزک اور پیتھالوجی کے ماہرین پر مشتمل آٹھ رکنی بورڈ تشکیل دیا تھا، جس پر اہلخانہ کو کوئی اعتراض نہیں تھا، تاہم رات گئے اس میں اچانک تبدیلیاں کر دی گئیں۔
انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ سندھ کے متعلقہ قانون کے تحت قبر کشائی کے لیے خصوصی میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کا اختیار پولیس سرجن کے پاس ہے اور بورڈ میں کی گئی تبدیلیاں قانون اور عدالتی حکم دونوں کے منافی تھیں۔
جبران ناصر نے الزام عائد کیا کہ بورڈ کی تبدیلی کا مقصد قبر کشائی میں تاخیر پیدا کرنا تھا، جبکہ تاخیر سے ممکنہ شواہد متاثر ہونے کا خدشہ ہے کیونکہ قبر کشائی اور دوبارہ پوسٹ مارٹم کا عمل ایک اہم موقع فراہم کرتا ہے۔
انہوں نے پولیس کی تفتیش پر بھی سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ تفتیش مکمل ہونے کے دعوے ایسے وقت میں کیے جا رہے ہیں جب عدالت ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ پر عدم اطمینان کے باعث دوبارہ پوسٹ مارٹم کا حکم دے چکی ہے۔
ان کے مطابق مدعی کا بیان بھی بروقت ریکارڈ نہیں کیا گیا جبکہ جائے وقوعہ سے گولی کا ایک خول عدالت کے حکم کے بعد دوبارہ تلاشی کے دوران برآمد ہوا، جس سے اہلخانہ کے تحقیقات کی شفافیت سے متعلق خدشات مزید بڑھ گئے۔
جبران ناصر نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ سی سی ٹی وی فوٹیج کے صرف منتخب حصے سامنے لائے جا رہے ہیں، جبکہ جائے وقوعہ سے گزرنے والے تمام افراد کی جانچ ہونی چاہیے۔
تاہم جمعے کی شب جبران ناصر نے اعلان کیا کہ طویل کشمکش کے بعد پولیس سرجن کراچی کی جانب سے تشکیل دیا گیا اصل خصوصی میڈیکل بورڈ بحال کر دیا گیا ہے، جس کے بعد میر رضا علی کی قبر کشائی ہفتے کی صبح متوقع ہے۔