امریکہ میں مسلمان دشمن سیاستدان پارٹی الیکشن ہار گیا، ٹرمپ کی حمایت بھی کام نہ آئی
امریکی سیاسی جماعتیں پرائمریز کے ذریعے اپنے انتخابی امیدوار چن رہی ہیں
امریکی ریاست ٹینیسی کے پانچویں کانگریشنل ڈسٹرکٹ کے ریپبلکن پرائمری الیکشن میں بڑا اپ سیٹ ہوا ہے جہاں موجودہ رکنِ کانگریس اینڈی اوگلز اپنے ہی حریف چارلی ہیچر سے ہار گئے ہیں۔ اس شکست کی ایک بڑی وجہ اینڈی اوگلز کا وہ متنازع سوشل میڈیا بیان بنا جس پر مسلم تنظیموں اور ڈیموکریٹک رہنماؤں نے شدید تنقید کی تھی۔
اینڈی اوگلز نے مارچ 2026 میں سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر لکھا تھا کہ مسلمان امریکی معاشرے کا حصہ نہیں ہیں اور کثیر الثقافتی نظام ایک جھوٹ ہے۔
اس بیان کی مذمت کرتے ہوئے یو ایس کونسل آف مسلم آرگنائزیشنز کے سیکرٹری جنرل اسامہ جمال نے کہا تھا کہ امریکہ میں نفرت اور امتیازی سلوک کی کوئی جگہ نہیں ہے۔
ٹینیسی کے سابق ایگریکلچر کمشنر چارلی ہیچر نے 53.2 فیصد ووٹ حاصل کر کے کامیابی اپنے نام کی جبکہ اینڈی اوگلز کو 46.8 فیصد ووٹ ملے۔
یہ شکست اس لیے بھی غیر متوقع تھی کیونکہ اینڈی اوگلز کو سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی باقاعدہ تائید حاصل تھی، لیکن انتخابی مہم کے دوران چارلی ہیچر نے اوگلز کے مسلم مخالف بیانات کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ مسلم امریکی شہری قانون کے پابند ہیں اور امریکی فوج میں بھی خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔
اس الیکشن میں حلقے کی جغرافیائی حدود میں بڑی تبدیلیاں کی گئی تھیں جس کی وجہ سے حلقے میں 82 فیصد نئے ووٹرز شامل ہوئے جنہیں اینڈی اوگلز متاثر کرنے میں ناکام رہے۔
پرائمری الیکشن کیا ہوتے ہیں؟
امریکہ کے انتخابی نظام میں پرائمری الیکشن دراصل کسی بھی سیاسی پارٹی کے اندرونی انتخابات ہوتے ہیں، جن کا مقصد یہ طے کرنا ہوتا ہے کہ عام انتخابات (General Elections) میں پارٹی کی طرف سے فائنل امیدوار کون ہوگا۔ مثال کے طور پر، ریپبلکن پارٹی کے حامیوں اور ووٹرز نے اس پرائمری الیکشن کے ذریعے یہ فیصلہ کیا کہ ان کی پارٹی کی طرف سے اینڈی اوگلز اور چارلی ہیچر میں سے کون فائنل الیکشن لڑنے کا حقدار ہے۔ اسی طرح ڈیموکریٹک پارٹی بھی اپنے امیدوار کا انتخاب کرنے کے لیے الگ سے پرائمری الیکشن کرواتی ہے۔
سادہ لفظوں میں، یہ فائنل میچ سے پہلے پارٹی کا اپنا سیمی فائنل ہوتا ہے جس میں صرف ایک ہی پارٹی کے لوگ آپس میں مقابلہ کرتے ہیں۔
یہ پاکستان جیسے ملکوں سے بالکل مختلف ہے جہاں پارٹی سربراہ اپنی مرضی سے اُمیدواروں کو انتخابی ٹکٹ جاری کرتا ہے۔
پرائمریز کے بعد کیا ہوتا ہے
پرائمری الیکشن کا مرحلہ مکمل ہونے کے بعد تمام پارٹیاں اپنے اپنے منتخب کردہ فائنل امیدواروں کو لے کر میدان میں اترتی ہیں۔ اس مخصوص حلقے میں کامیابی کے بعد اب ریپبلکن امیدوار چارلی ہیچر پارٹی کے باقاعدہ نمائندے بن چکے ہیں۔
اب اگلے مرحلے میں، یعنی نومبر 2026 میں ہونے والے مڈٹرم یا عام انتخابات کے دوران، ریپبلکن پارٹی کے چارلی ہیچر کا اصل اور حتمی مقابلہ ڈیموکریٹک پارٹی کے نامزد امیدوار چاز مولڈر سے ہوگا۔
نومبر کے اس فائنل الیکشن میں جس بھی پارٹی کے امیدوار کو سب سے زیادہ ووٹ ملیں گے، وہ باقاعدہ طور پر واشنگٹن ڈی سی جا کر امریکی ایوانِ نمائندگان (Congress) میں اس علاقے کی سیٹ سنبھالے گا۔