تلہ گنگ میں بہنوئی کے ہاتھوں قتل لڑکی سے سوتیلہ ماموں بھی شادی کا خواہشمند تھا
باپ نے دوسری شادی کے بعد بیٹی نئی بیوی کے میکے کے حوالے کر رکھی تھی، بہنوئی نے ناجائز تعلقات اور قتل کا اعتراف کر لیا
چکوال: تلہ گنگ کے علاقے موگلہ کی ڈھوک ڈالی میں 17 سالہ لڑکی کے قتل کا معمہ حل ہوگیا، پولیس نے مقتولہ کے بہنوئی دلشاد حسین کو گرفتار کرلیا، جس نے مقامی عدالت میں مجسٹریٹ کے سامنے اعترافِ جرم کرلیا۔
عدالت میں دیے گئے بیان کے مطابق ملزم نے اپنی 17 سالہ سالی کو مبینہ طور پر سر پر پتھر مارنے اور گلا دبانے کے بعد قتل کیا، جبکہ لاش کو گھاس کے نیچے چھپا دیا تھا۔
پولیس کے مطابق مقتولہ 25 جولائی کو لاپتہ ہوئی تھی اور 31 جولائی کو اس کی لاش ایک دربار کے قریب گھاس کے نیچے سے ملی۔ تلہ گنگ پولیس نے تحقیقات کے بعد ملزم کو گرفتار کیا اور چار روز میں کیس کا سراغ لگایا۔
ملزم نے عدالت کو بتایا کہ کچھ عرصے سے اس کی اپنی سالی سے بات چیت تھی جو بعد میں مبینہ طور پر ناجائز تعلقات میں تبدیل ہوگئی۔ ملزم کے مطابق دونوں شادی کرنا چاہتے تھے۔
عدالت میں بیان دیتے ہوئے ملزم نے بتایا کہ 25 جولائی کو وہ مقتولہ سے اس کے گھر کے باہر ملا۔ لڑکی کے گھر واپس جانے کے بعد اس کی خالہ نے اس سے پوچھ گچھ کی۔ بعدازاں مقتولہ نے ملزم کو فون کرکے بتایا کہ ان کے تعلقات کا علم گھر والوں کو ہوگیا ہے اور وہ گھر نہیں رہ سکتی، اس لیے وہ اس کے ساتھ جانا چاہتی ہے۔
ملزم کے مطابق وہ مقتولہ کو پنڈی گھیب لے گیا، جہاں اس نے ایک کمرہ کرائے پر لیا اور بعض افراد، بشمول ایک نکاح خواں، سے مشورہ کیا کہ آیا وہ اپنی موجودہ بیوی کی بہن سے شادی کرسکتا ہے۔ جب اسے معلوم ہوا کہ ایسا ممکن نہیں تو وہ 30 جولائی کو مقتولہ کو موٹر سائیکل پر واپس ڈھوک ڈالی لے آیا۔
ملزم نے بتایا کہ گاؤں پہنچنے کے بعد مقتولہ نے گھر جانے سے انکار کردیا۔ اس دوران دونوں کے درمیان تلخ کلامی ہوئی اور ہاتھا پائی شروع ہوگئی۔ ملزم کے بیان کے مطابق اسی دوران اس نے پتھر اٹھا کر مقتولہ کے سر پر وار کیے اور بعد ازاں گلا دبا دیا۔ قتل کے بعد لاش کو گھاس کے نیچے چھپا دیا گیا۔
مقتولہ گزشتہ تقریباً سات برس سے ڈھوک ڈالی میں ایک رشتہ دار کے گھر رہ رہی تھی۔ اس کی والدہ کا انتقال ہوچکا تھا جبکہ والد نے دوسری شادی کرلی تھی۔ دوسری شادی کے بعد مقتولہ اپنی سوتیلی والدہ کے میکے میں رہ رہی تھی۔
واقعے نے کم عمر لڑکی کی نگہداشت اور خاندانی ذمہ داریوں سے متعلق بھی کئی سوالات اٹھا دیے ہیں۔ تاہم قتل کے مقدمے میں ملزم کے اعتراف کے علاوہ دیگر افراد کے ممکنہ کردار کا تعین پولیس کی تفتیش اور عدالت میں پیش کیے جانے والے شواہد کی بنیاد پر ہوگا۔
دوسری جانب مقامی ذرائع کی جانب سے یہ دعویٰ بھی سامنے آیا ہے کہ مقتولہ کے اغوا کا مقدمہ درج کرانے والے ایک شخص نے خود کو اس کا ماموں ظاہر کیا تھا، تاہم مبینہ طور پر وہ مقتولہ سے شادی کا خواہشمند تھا۔ اس دعوے کی آزادانہ تصدیق تاحال نہیں ہوسکی۔
عدالت نے ملزم کو جوڈیشل ریمانڈ پر بھیجتے ہوئے 24 اگست کو دوبارہ پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔