کالعدم تنظیم عوامی جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے 8 اہلکاروں کو اغوا کرلیا،ترجمان آزاد کشمیر پولیس

آزاد کشمیر کے عوام پرتشدد احتجاج کو مسترد کرتے ہیں اور ریاستی عملداری کو چیلنج کرنے والی کسی بھی کارروائی کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔

August 13, 2026 · قومی

آزاد کشمیر پولیس کے ترجمان ایس ایس پی خاور علی شوکت نے الزام عائد کیا ہے کہ کالعدم عوامی جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے کارکنوں نے 8 پولیس اہلکاروں کو مبینہ طور پر اغوا کیا ہے۔

پریس کانفرنس کرتے ہوئے ایس ایس پی خاور علی شوکت نے دعویٰ کیا کہ مغوی اہلکاروں کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ انہوں نے کالعدم عوامی جوائنٹ ایکشن کمیٹی سے مطالبہ کیا کہ تمام مغوی پولیس اہلکاروں کو فوری طور پر رہا کیا جائے۔

پولیس ترجمان نے خبردار کیا کہ اگر مغوی اہلکاروں کو کسی قسم کا نقصان پہنچا تو اس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔

ایس ایس پی خاور علی شوکت کے مطابق راولاکوٹ میں احتجاج کے دوران شہریوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ بعض مقامات پر خواتین اور بچوں کو مبینہ طور پر ڈھال کے طور پر استعمال کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ریاستی املاک کو نقصان پہنچانے اور شہریوں کو دھمکانے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔

پولیس ترجمان کا کہنا تھا کہ آزاد کشمیر کے عوام پرتشدد احتجاج کو مسترد کرتے ہیں اور ریاستی عملداری کو چیلنج کرنے والی کسی بھی کارروائی کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ ان کے مطابق کوئی بھی شخص قانون سے بالاتر نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ ریاست صورتحال پر تحمل کا مظاہرہ کر رہی ہے، تاہم اس تحمل کو کمزوری نہ سمجھا جائے۔ پولیس ترجمان نے والدین سے بھی اپیل کی کہ وہ اپنے بچوں پر نظر رکھیں اور انہیں پرتشدد سرگرمیوں کا حصہ بننے سے روکیں۔

ایس ایس پی خاور علی شوکت نے الزام عائد کیا کہ پرتشدد کارروائیوں کا مقصد ریاستی نظام اور عملداری کو کمزور کرنا ہے۔ ان کے مطابق قانون نافذ کرنے والے ادارے صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور امن و امان برقرار رکھنے کے لیے ضروری اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

واضح رہے کہ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے احتجاج اور پولیس کے درمیان کشیدگی اس سے قبل بھی سنگین صورتحال اختیار کرچکی ہے۔ جون 2026 میں راولاکوٹ میں جھڑپوں کے دوران پولیس اہلکاروں کی ہلاکت اور زخمی ہونے کی اطلاعات سامنے آئی تھیں۔

**نوٹ:** پولیس کی جانب سے 8 اہلکاروں کے اغوا اور تشدد کے الزامات کو فی الحال پولیس کا مؤقف ہی سمجھا جائے؛ حتمی صورتحال آزادانہ تصدیق اور مزید شواہد سامنے آنے کے بعد واضح ہوگی۔