کراچی کے ساٹھ سالہ شہری کا بانی پاکستان سے منفرد اظہارمحبت
آٹھ سال کی محنت سے مزارِ قائد کا خوب صورت ماڈل تیار کرلیا
کراچی کے ساٹھ سالہ حق نواز نے بانیِ پاکستان قائداعظم محمد علی جناح سے سچی اور کھری محبت کا اظہار ایک منفرد انداز میں کیا ہے۔ مزارِ قائد دیکھ کر ان کے دل میں جذبہ پیدا ہوا کہ وہ اس کی نقل خود بنائیں۔ اس طرح انہوں نے مزار کا ماڈل بنانا شروع کیا اور ہر سال اس میں نئے اضافے کرتے رہے۔ بانیِ پاکستان جہاں ابدی نیند سوئے ہوئے ہیں، اس جگہ کا تقریباً ہر گوشہ انہوں نے اپنے ہاتھوں سے دوبارہ تخلیق کیا ہے۔ یہ محبت کراچی کی ثقافت اور قومی شعور کو بھی زندہ رکھنے کا ذریعہ بن گئی ہے۔
حق نواز بتاتے ہیں کہ وہ مزارِ قائد پر جایا کرتے تھے۔وہاں موجود سیکیورٹی فورسز، سرسبز پودے اور درخت انہیں بہت اچھے لگتے۔ ایک دن خیال آیا کہ وہ بھی ایک چھوٹا ماڈل تیار کریں۔ سات فٹ سے شروع کیا گیا یہ ماڈل آج ماشاءاللہ بارہ اعشاریہ پانچ فٹ بائی بارہ اعشاریہ پانچ فٹ کا ہو چکا ہے۔ تقریباً سات آٹھ سال سے وہ یہ کام کر رہے ہیں۔ عام طور پر دو مہینے پہلے کام شروع کر دیتے ہیں اور پورا ماڈل بنانے میں تقریباً چھ ماہ لگ جاتے ہیں۔
اس سال انہوں نے چشمہ بنایا ہے، نمائش کی طرف جانے والی سڑک، گاڑیاں، پولیس اور ٹریفک کے اہلکار بھی شامل کیے ہیں۔ سب سے مشکل کام مزار کی اوپری گولائی تھی۔ اس پر کم از کم ایک مہینہ لگا۔ گوند اور برادہ ملا کر بار بار لگاتے رہے، خشک ہونے دیتے رہے، بالآخر کامیاب ہو گئے۔ باقی کام نسبتاً آسان تھا۔
ماڈل میں پلائی، لکڑی، لوہا، مصنوعی گھاس اور روشنیاں استعمال ہوئی ہیں۔ ویلڈنگ باہر سے کرائی گئی ۔ کٹنگ اور باقی زیادہ تر کام خود کیا۔ لائٹ کا انتظام بھی خود ہی کیا۔ گاڑیاں بازار سے خریدی گئی ہیں جن میں سوزوکی، اورنج بس ، ہائی روپ، رکشے، فائر ٹینڈر، ایدھی ایمبولینس اور دیگر شامل ہیں۔ سڑکوں پر ٹریفک سگنل، چالان کرتے ہوئے ٹریفک پولیس اور جناح گیٹ کے سامنے سیکیورٹی اہلکار بھی دکھائے گئے ہیں۔ ایل ای ڈی لائٹس اور سفید پورٹریٹ اصل مزار کی پہچان کے مطابق بنائے ہیں۔
حق نواز کہتے ہیں کہ یہ سب کچھ اپنی جیب سے کرتے ہیں۔ اس سال تقریباً ڈھائی لاکھ روپے سے زیادہ خرچ ہو چکے ہیں۔ گاڑیاں مہنگی پڑتی ہیں، کوئی دو ہزار کی تو کوئی پانچ سو کی۔ ان کا مقصد سڑکیں دکھانا ہے جو نمائش، گولہ مندر، اسلامی کالج اور ففتھ داد کالونی کی طرف جاتی ہیں۔
اگلے سال ان شاءاللہ گرین لائن بس کا پل بنائوں گا۔ اگر زندگی رہی تو یہ منصوبہ بھی مکمل کروں گا۔حق نواز کہتے ہیں کہ اگر قائداعظم زندہ ہوتے تو وہ سب سے پہلے ان کا شکریہ ادا کرتے۔ ان کے الفاظ میں: ‘‘میں تو سب سے پہلے اس کا شکریہ ادا کرتا جس نے ہمیں اتنا بڑا پاکستان دیا ہے، اتنا بڑا نام دیا ہے۔ اس سے بڑا کیا ہے؟’’
حق نواز نے نئی نسل کے لیے پیغام دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان بنے ہوئے آج ماشاءاللہ اسی سال ہو گئے ہیں لیکن لوگ بھولتے جا رہے ہیں کہ چودہ اگست کیا ہوتی ہے۔ پہلے گھروں میں جھنڈے لگتے تھے، جیبیں بیجز سے بھری رہتی تھیں۔ اب نہ جھنڈے لگتے ہیں نہ گھر سجتے ہیں۔ میری عمر ساٹھ سال ہے، پھر بھی پاکستان کی محبت ہر سال بڑھتی جا رہی ہے۔ پاکستان ہے تو ہم ہیں۔ ہماری پہچان ہی پاکستان ہے۔ ایسی چیزیں بنائیں تاکہ لوگ دیکھیں اور قائد کی دی ہوئی اس عظیم نعمت کو یاد رکھیں۔’’
حق نواز کا یہ ماڈل صرف لکڑی، لوہے اور رنگوں کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک عام پاکستانی کی قومی محبت اور وفاداری کا زندہ ثبوت ہے۔