پشاور : شادی سے انکارکرنے پر لڑکے پر تیزاب پھینکنے کے الزام میں خاتون گرفتار

خاتون کےمطابق نہ توانھوں نےتیزاب پھینکااور نہ ہی فائرنگ کی،بلکہ ان دونوں پرکسی تیسرےشخص نےحملہ کیا

August 13, 2026 · قومی

فائل فوٹو

پشاور: 11 اگست کی شام کو پشاور پولیس کو ایک شکایت موصول ہوئی جس میں ایک نوجوان نے مؤقف اختیار کیا کہ شادی سے انکار پر ان کی ایک دوست نے ان پر تیزاب پھینکا اور گولی مار کر انھیں شدید زخمی کر دیا۔

اس بیان کی بنیاد پر پولیس نے مقدمہ درج کر کے تفتیش شروع کر دی۔تاہم جب پولیس نامزد خاتون تک پہنچی تو معاملہ مزید پیچیدگی اختیار کر گیا۔

معلوم ہوا کہ وہ خود بھی اسی واقعے میں تیزاب سے جھلس گئی ہیں اور ہسپتال میں زیرِ علاج ہیں۔ دورانِ تفتیش خاتون نے ایک مختلف کہانی بیان کی۔ ان کے مطابق نہ تو انھوں نے تیزاب پھینکا اور نہ ہی فائرنگ کی، بلکہ ان دونوں پر کسی تیسرے شخص نے حملہ کیا، جس کے نتیجے میں دونوں زخمی ہوئے۔یوں پشاور کے تھانہ چمکنی میں درج یہ مقدمہ اب پولیس کے لیے ایک معمہ بن چکا ہے۔

ایک طرف زخمی نوجوان کا دعویٰ ہے کہ خاتون نے بلیک میلنگ میں ناکامی کے بعد ان پر تیزاب پھینکا اور فائرنگ کی، جبکہ دوسری جانب خاتون کا کہنا ہے کہ حملہ آور کوئی اور شخص تھا جس نے دونوں کو نشانہ بنایا۔ البتہ شکایت کنندہ نے اپنے بیان میں کسی تیسرے فریق پر شک ظاہر نہیں کیا۔

اس صورتحال میں پولیس کے سامنے سب سے بڑا سوال یہی ہے کہ حقیقت کیا ہے؟ اگر خاتون کا مؤقف درست ہے تو وہ نامعلوم حملہ آور کون تھا اور اس کی موجودگی کے شواہد کہاں ہیں؟ اور اگر زخمی نوجوان کے الزامات درست ہیں تو پھر اسی واقعے میں خاتون کے زخمی ہونے کی کیا وجہ ہے؟

شادی اور 20 لاکھ روپے کی بلیک میلنگ کا الزام

پولیس کے مطابق واقعے میں زخمی ہونے والے شخص نے اپنی شکایت میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ ان کے ایک خاتون کے ساتھ طویل عرصے سے تعلقات تھے اور خاتون ان سے شادی کرنے یا 20 لاکھ روپے دینے کے لیے دباؤ ڈال رہی تھیں۔

درج مقدمے کے مطابق مدعی کا کہنا ہے کہ واقعے کے روز جب وہ اپنے گھر سے باہر نکلے تو خاتون نے دروازہ کھلتے ہی ان پر تیزاب پھینک دیا، جس سے ان کے جسم کے مختلف حصے جھلس گئے۔ مدعی کے مطابق اس کے بعد خاتون نے انھیں قتل کرنے کی نیت سے فائرنگ بھی کی اور گولی ان کے بائیں جانب سینے میں لگی، جس سے وہ زمین پر گر گئے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ زخمی شخص کو فوری طور پر ہسپتال منتقل کیا گیا، جہاں ان کا بیان ریکارڈ کرنے کے بعد ابتدائی اطلاعی رپورٹ یعنی ایف آئی آر درج کی گئی۔

تاہم تفتیش کے دوران سامنے آنے والی معلومات نے کیس کو پیچیدہ بنا دیا ہے۔

پولیس کے مطابق اس واقعے میں نامزد خاتون بھی تیزاب سے زخمی ہوئی ہیں اور اس وقت حیات آباد میڈیکل کمپلیکس کے برن یونٹ میں زیر علاج ہیں۔ پولیس نے ہسپتال میں ہی انھیں حراست میں لے لیا ہے۔

ہسپتال ذرائع کے مطابق خاتون کی گردن اور ہاتھ تیزاب سے متاثر ہوئے ہیں اور ان کی حالت خطرے سے باہر ہے، جبکہ زخمی مرد کی حالت تاحال تشویشناک بتائی جاتی ہے۔