پولیس اہلکاروں کو مارنے والے ریحان بٹ کی بہن سے تفتیش- چند ماہ قبل گرفتاری و رہائی کا انکشاف

ریحان اور مفرور قاتل طارق اسلحے سمیت پکڑے گئے تھے- اشتہاری ہونے کے باوجود پولیس نے جانے دیا

August 16, 2026 · قومی

 لاہور میں جمعرات کو پولیس اہلکاروں پر ہونے والے حملوں کی تحقیقات میں اہم انکشافات سامنے آئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق حملے میں ہلاک ہونے والا ریحان بٹ اس سے قبل غیر قانونی پستول سمیت گرفتار ہوا تھا، تاہم پولیس نے اسے پوچھ گچھ کے بعد چھوڑ دیا تھا۔

ذرائع کے مطابق واقعے کے بعد پولیس کے دو اہلکاروں، ایک رکشہ ڈرائیور اور ریحان بٹ کی بہن ماہ نور سمیت چار افراد سے تحقیقات کر رہی ہے۔ رکشہ ڈرائیور کے مطابق ریحان بٹ اور دیگر دو مبینہ حملہ آور اسی رکشے میں بادامی باغ سے نواں کوٹ پہنچے تھے۔

پولیس ذرائع کے مطابق ریحان بٹ اپنے بھائی فیضان بٹ کے مبینہ پولیس مقابلے کے بعد اس وقت کے اے ایس آئی عدیل کو دھمکیاں دیتا رہا تھا۔ اس معاملے پر دسمبر 2024 میں تھانہ شفیق آباد میں مقدمہ درج کیا گیا، جس میں ریحان بٹ بعد ازاں اشتہاری قرار دیا گیا تھا۔ جمعرات کو اے ایس آئی عدیل اسی مقدمے میں ریحان بٹ کو گرفتار کرنے پہنچا تو مبینہ طور پر اس پر حملہ کردیا گیا۔

تحقیقات کے دوران یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ چند ماہ قبل سٹی ڈویژن کے تھانہ راوی روڈ کی حدود میں محافظ اہلکاروں نے ایک موٹرسائیکل پر سوار دو نوجوانوں کو چیکنگ کے لیے روکا تھا۔ دونوں کے بیگ کی تلاشی کے دوران بغیر لائسنس پستول برآمد ہوا۔

ذرائع کے مطابق پولیس نے نوجوانوں سے اسلحہ رکھنے کی وجہ دریافت کی تو انہوں نے کہا کہ یہ “گستاخ” کو مارنے کیلئے رکھا ہے۔ دونوں نوجوانوں کی شناخت ریحان بٹ اور طارق کے نام سے ہوئی۔ طارق وہ مبینہ حملہ آور ہے جو جمعرات کے واقعے کے بعد سے مفرور ہے۔

پولیس دونوں نوجوانوں کو تھانہ راوی روڈ لے گئی، جہاں پوچھ گچھ کے دوران معلوم ہوا کہ ریحان بٹ، فیضان بٹ کا بھائی ہے۔ کم عمری کے باعث اس کا شناختی کارڈ بھی نہیں بنا تھا۔ پولیس نے طارق کے خلاف غیر قانونی اسلحہ رکھنے کے الزام میں مقدمہ درج کیا، تاہم ریحان بٹ کو چھوڑ دیا گیا۔ ذرائع کے مطابق طارق کو بھی اگلے روز ضمانت مل گئی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ریحان بٹ کے خلاف پہلے ہی سنگین نتائج کی دھمکیاں دینے کا مقدمہ درج تھا اور وہ طویل عرصے سے اشتہاری تھا۔ اس کے باوجود غیر قانونی اسلحہ سمیت پکڑے جانے کے بعد اس کی رہائی نے پولیس کی کارروائی اور ریکارڈ کے نظام پر کئی سوالات اٹھا دیے ہیں۔

خاص طور پر یہ سوال سامنے آیا ہے کہ تھانہ شفیق آباد کا اشتہاری ملزم، جس کا تعلق اسی پولیس سرکل سے تھا، تھانہ راوی روڈ میں اسلحے سمیت پکڑے جانے کے باوجود متعلقہ پولیس کو مطلوب ہونے کی اطلاع کیوں نہ دی جاسکی۔ دونوں تھانے جغرافیائی طور پر بھی ایک دوسرے کے قریب ہیں، اس لیے پولیس کے جدید ریکارڈ اور اشتہاری ملزمان کی نگرانی کے نظام کی کارکردگی پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں۔

ذرائع کے مطابق ریحان بٹ اور طارق کی اس گرفتاری اور رہائی کے بعد دونوں دوبارہ پولیس کے ہاتھ نہ لگے۔ چند ماہ بعد جمعرات کو لاہور میں ہونے والے حملوں میں تین پولیس اہلکار شہید اور دو زخمی ہوگئے، جبکہ ریحان بٹ بھی مارا گیا۔

پولیس کی جاری تحقیقات میں اب یہ پہلو بھی زیر غور ہے کہ اگر ریحان بٹ کو پہلے ہی اسلحے سمیت گرفتار کرلیا گیا تھا اور وہ ایک مقدمے میں اشتہاری بھی تھا تو اس وقت کی پولیس کارروائی میں ایسی کیا خامی رہ گئی جس کے نتیجے میں وہ دوبارہ آزاد ہوکر مبینہ طور پر پولیس اہلکاروں پر حملے تک پہنچ گیا۔