سعودی عرب میں باجوڑ کے 3 نوجوانوں کے قتل کی دردناک کہانی
ریاض میں دو مبینہ قاتل گرفتار کرلیے گئے، مہمان کا لین دین کا تنازع تھا، نوجوان ناحق مارے گئے، اہلخانہ
باجوڑ : سعودی عرب کے شہر ریاض میں باجوڑ سے تعلق رکھنے والے 2 سگے بھائیوں اور ان کے چچا زاد کو انہی کے علاقے کے افراد نے قتل کردیا۔
بتایا جا رہا ہے کہ مبینہ قاتلوں کی مشکل وقت میں اسی خاندان نے مدد کی تھی جن کے نوجوانوں کو انہوں نے نشانہ بنایا۔
لیکن یہ واقعہ ہوا کیسے؟ اور چند لمحوں کی تلخ کلامی تین قیمتی جانوں کے ضیاع تک کیسے پہنچی؟
آئیے, اس دل دہلا دینے والے واقعے کی تمام اہم تفصیلات جانتے ہیں۔
مقتولین کا تعلق ضلع باجوڑ کی تحصیل سالارزئی سے تھا۔ ان میں محمد خان اور احمد گل سگے بھائی تھے، جبکہ صدام حسین ان دونوں کا کزن تھا۔ یہ تینوں روزگار کے سلسلے میں سعودی عرب میں مقیم تھے۔
خاص طور پر صدام حسین کو سعودی عرب پہنچے ہوئے صرف تقریباً پندرہ روز ہی ہوئے تھے۔ وہ ایک بہتر مستقبل کی امید لے کر پردیس گیا تھا، لیکن صرف پندرہ دن بعد اس کی میت وطن واپس پہنچی۔
اہلِ خانہ کے مطابق، تینوں نوجوان ریاض میں ایک ہی رہائشی حجرے میں رہتے تھے۔ واقعے سے پہلے ایک شخص ان کے حجرے میں بطور مہمان موجود تھا۔ لواحقین کا کہنا ہے کہ اس مہمان کا دوسرے فریق کے ساتھ مبینہ طور پر کوئی لین دین کا تنازع چل رہا تھا۔
جب وہ مہمان حجرے سے باہر نکلا، تو دوسرے فریق نے اسے باہر روک لیا۔ پہلے بات چیت شروع ہوئی، پھر بات تلخ کلامی تک پہنچی، اور دیکھتے ہی دیکھتے معاملہ ہاتھا پائی میں تبدیل ہو گیا۔
اسی دوران محمد خان نے بیچ بچاؤ کے لیے مداخلت کی۔ اس نے کہا کہ یہ شخص ہمارا مہمان ہے، اس کے ساتھ ہمارے حجرے کے سامنے بدسلوکی نہ کی جائے!
مگر صورتحال قابو میں آنے کے بجائے مزید بگڑ گئی۔اہلِ خانہ کے بیان کے مطابق اسی دوران صدام حسین بھی وہاں پہنچ گیا۔ اس نے محمد خان کو زخمی حالت میں دیکھا اور جھگڑا ختم کرانے کی کوشش کی—مگر مبینہ طور پر صدام پر چاقو سے حملہ کر دیا گیا۔ گردن پر وار ہوا، اور صدام حسین وہیں جان کی بازی ہار گیا۔
اس کے بعد، جب محمد خان نے صدام کو بچانا چاہا تو اسے بھی مبینہ طور پر متعدد چاقو کے وار کرکے شدید زخمی کر دیا گیا، اور محمد خان بھی زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گیا۔
جب تیسرے بھائی، احمد گل نے اپنے بھائی کو خون میں لت پت دیکھا اور وہ آگے بڑھا، تو اسے بھی مبینہ طور پر سینے پر چاقو کا کاری وار لگا۔
اور یوں… ایک ہی خاندان کے تین نوجوان—احمد گل، محمد خان، اور صدام حسین—چند لمحوں میں موت کی وادی میں چلے گئے۔
ان کی میتیں پاکستان پہنچا دی گئیں جہاں ہفتہ کو نماز جنازہ اور تدفین کے وقت پر آنکھ اشک بار تھی۔
اہلِ خانہ کے مطابق اس واقعے میں پانچ افراد کو نامزد کیا گیا ہے۔ خاندان کا دعویٰ ہے کہ ان میں سے تین افراد کے پاس مبینہ طور پر چاقو تھے، جبکہ دو افراد نے مقتولین کو پکڑ رکھا تھا۔ واقعے کے بعد تمام نامزد افراد موقع سے فرار ہو گئے۔
تاہم ان تمام دعوؤں اور تفصیلات کی حتمی تصدیق سعودی حکام کی باضابطہ تحقیقات اور عدالتی کارروائی سے ہی ہوگی۔
واقعے کے فوری بعد سعودی پولیس نے حرکت میں آتے ہوئے تحقیقات کا آغاز کیا۔ ذرائع کے مطابق، پولیس نے جدید ٹیکنالوجی اور دستیاب سائنسی شواہد کی مدد سے مبینہ ملزمان کا سراغ لگایا۔
بروقت کارروائی کے نتیجے میں دو اہم ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا ہے، جن سے تفتیش کا عمل جاری ہے؛ جبکہ پولیس کی جانب سے دیگر ملوث ملزمان کی گرفتاری کے لیے بھی چھاپے مارے جا رہے ہیں۔
اس المناک واقعے کا ایک اور دردناک پہلو یہ ہے کہ دونوں فریقوں کا تعلق نہ صرف ایک ہی علاقے یعنی باجوڑ سے تھا بلکہ مقتولین کے خاندان نے ملزمان کی سعودی عرب میں مدد بھی کی تھی۔
مرنے والوں کے باپ نے جنازے پر بتایا کہ قاتلوں کا ایک شخص سعودی عرب میں کفیل سے اختلافات کے بعد مطلوب ہوگیا تھا جس انہوں نے اپنے بچوں کے پاس ہجرے میں پناہ دلوائی تھی حالانکہ اس کی وجہ سے دیگر لوگ بھی مشکل میں آسکتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ میں نے سہارا دیا اور انہوں نے مجھ سے میرے بچے چھین لیے۔