پاکستانی سوشل میڈیا انفلوئنسر شہزاد بھٹی پر بھارت کی فلمی کہانی نیٹ ورک توڑنے کا دعویٰ

253 افراد پکڑ لیے، پاکستان آرڈیننس فیکٹری کے دستی بم برآمد ہوگئے۔ امت شاہ کے مضحکہ خیز بیانات

August 17, 2026 · امت خاص

تصویر: سوشل میڈیا

 

بھارت نے پاکستان کے ایک متنازع سوشل میڈیا انفلونسر شپزاد بھٹی کے گرد ایک فلمی کہانی گھڑتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ہے بھارت کے مختلف شہروں میں شہزاد بھٹی کے نیٹ ورک کا خاتمہ کردیا گیا ہے۔

یہ دعویٰ بھارت میں اعلیٰ تریں سطح پر وزیر داخلہ امت شاہ کی طرف سے پیر 17 اگست 2026 کو سامنے آیا۔ بھرتی وزیر داخلہ امت شاہ نے اعلان کیا کہ مودی حکومت نے یوم آزادی سے پہلے “آئی ایس آئی کے حمایت یافتہ شہزاد بھٹی نیٹ ورک” کو ختم کر دیا۔ ان کے مطابق 14 ریاستوں میں مربوط کارروائی کے دوران 253 افراد حراست میں لیے گئے، 200 سے زائد آپریٹو گرفتار ہوئے اور 80 سے زیادہ FIR درج کی گئیں۔ ان سے جو سامان برآمد ہوا اس میں آئی ای ڈی، پاکستان آرڈیننس فیکٹری کے نشان والے گرینیڈ، پستول، کارتوس اور جاسوسی والے سی سی ٹی وی کیمرے بتائے گئے۔

مبینہ نیٹ ورک کو گرینیڈ، آئی ای ڈی، پیٹرول بم حملوں اور ٹارگٹڈ کلنگ سے جوڑا گیا۔ بھارت نے یہ ڈراما ایک ایسے وقت پر کیا ہے جب بلوچستان میں اس کے دہشت گرد نیٹ ورک پکڑے جا رہے ہیں اور حقیقت دنیا کے سامنے آرہی ہے۔ تاہم سوال یہ ہے کہ شہزاد بھٹی کون ہے جس کے گرد یہ کہانی گھڑی گئی اور اسی کو ہی کردار کیوں بنایا گیا۔

شہزاد بھٹی کون ہے؟
شہزاد بھٹی ایک پاکستانی سوشل میڈیا انفلوئنسر ہے جو “333” کے نام سے مذہبی موضوعات، انڈیا-پاک تعلقات اور انفلوئنسرز کے تنازعات پر ویڈیوز بناتا ہے۔ ان ویڈیوز کے دوران ہی شہزاد بھٹی نے بھارتی گینگسڑ لارنس بشنوئی سے دوستی کا دعویٰ کردیا۔

ایک انٹرویو میں شہزاد بھٹی نے دعویٰ کیا کہ اس نے بشنوئی سے دوستی اس لیے کی کہ بھارت سے گستاخانہ مواد اپ لوڈ کرنے والوں کو بشنوئی کے ذریعے دھمکیاں دلوا سکتے لیکن مئی 2025 میں پاک بھارت کشیدگی اور بشنوئی کے بیانات کے سبب یہ دوستی ختم ہوگئی۔

اطلاعات کے مطابق شہزاد بھٹی کے خلاف پاکستان میں مقدمات ہیں اور 2015 وہ فرار ہو کر دبئی چلا گیا۔ جہاں سے وہ 333 کے نام پر سوشل میڈیا پر ویڈیوز بناتا ہے۔

بھارت نے یہ کہانی گھڑی ہے کہ شہزاد بھٹی نے سوشل میڈیا کے ذریعے بیروزگار بھارتی نوجوانوں کو بھرتی کیا اور بھارت میں اپنا نیٹ ورک بنا لیا۔ وہ لوگوں کو پانچ ہزار روپے سے تین لاکھ روپے تک دیتا تھا۔

بھارت کا دعویٰ ہے کہ اتر پردیش سے اس نیٹ ورک کے 62، ہریانہ سے 52، دہلی سے 51، پنجاب سے 44، راجستھان سے 15، مہاراشٹر سے 8، اتراکھنڈ سے 5، کرناٹک، گجرات اور بہار سے تین تین، اور تلنگانہ، ہماچل پردیش، جموں و کشمیر اور کیرالہ سے دو دو افراد کو حراست میں لیا گیا۔