عمران خان کے بعد سپریم کورٹ سے ایمان مزاری کیلئے ریلیف کی امید
سپریم کورٹ محض خاموش تماشائی بنی نہیں رہ سکتی، جسٹس نعیم اختر افغان کے ریمارکس
ہادی چھٹہ اور ایمان مزاری کو جنوری میں سزا سنائی گئی تھی
عمران خان کے بعد ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ کے لیے بھی سپریم کورٹ سے ریلیف کی امید پیدا ہو گئی ہے۔ سپریم کورٹ نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے طرزِ عمل اور کیس کو مسلسل لٹکانے پر شدید برہمی کا اظہار کیا ہے۔
سپریم کورٹ کے جسٹس نعیم اختر افغان نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں اس کیس کی سماعتوں میں مسلسل تاخیر اور عدالتی رویے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ بدھ کو سماعت کے دوران انہوں نے ریمارکس دیے کہ ہمیں دیکھنا ہوگا کہ ہائی کورٹ میں کیا ہو رہا ہے اور وہاں کس قسم کا رویہ اپنایا جا رہا ہے، اگر وہاں ایسا ہی طرزِ عمل رہا تو ہم یہاں کس لیے بیٹھے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہائی کورٹ کی جانب سے سزا معطلی کی درخواستوں پر فیصلہ نہ کرنے کی صورت میں سپریم کورٹ محض خاموش تماشائی بنی نہیں رہ سکتی۔
عدالتِ عظمیٰ نے اس معاملے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ کے وکیل فیصل صدیقی کو حکم دیا ہے کہ وہ اسلام آباد ہائی کورٹ کی اب تک کی تمام کارروائی کا مکمل ریکارڈ پیش کریں۔
اس کیس کا پس منظر یہ ہے کہ رواں سال جنوری 2026 میں اسلام آباد کی ایک سیشن عدالت نے سوشل میڈیا پوسٹس سے متعلق پیکا (PECA) کیس میں دونوں کو 17، 17 سال قید کی سخت سزا سنائی تھی۔ اس سزا کے خلاف اپیل پر سپریم کورٹ نے مئی 2026 میں اسلام آباد ہائی کورٹ کو واضح ہدایت دی تھی کہ وہ دو ہفتوں کے اندر سزا معطلی کی درخواستوں پر فیصلہ کرے، تاہم ہائی کورٹ میں گواہوں کے دوبارہ بیانات قلمبند کرنے، استغاثہ کے اعتراضات اور کاز لسٹ منسوخ ہونے معاملات کے سبب یہ کیس اب تک چل رہا ہے۔
سپریم کورٹ نے ایک روز قبل ہی پی ٹی آئی کے سربراہ عمران خان کو جیل سے نجی اسپتال الشفا منتقل کرنے کے احکامات جاری کیے تھے جنہیں حکومت نے چیلنج کرنے کا اعلان کیا ہے۔