آبنائے ہرمز میں 80 فیصد بحری جہاز عمانی روٹ استعمال کرنے لگے، ایرانی کنٹرول میں کمی کا دعویٰ
تہران کی ٹول وصولی متاثر، لیکن مجموعی طور پر آبنائے ہرمز سے جہازوں کی آمدروفت بدستور متاثر
منگل کو صرف 6 جہاز عمان کے راستے سے گزرے
امریکی میڈیا نے شپنگ ڈیٹا فرم کپلر کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ گزشتہ دو ہفتوں کے دوران آبنائے ہرمز سے گزرنے والے اسی فیصد سے زائد تجارتی بحری جہازوں نے اقوام متحدہ کے منظور شدہ عمانی بحری راستے کا رخ کیا ہے۔ لیکن کیا آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمدرفت بحال ہو رہی ہے۔
سی این این سمیت امریکی میڈیا کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال سے واضح ہوتا ہے کہ ایران اس اہم ترین بین الاقوامی آبی گزرگاہ پر کم از کم جزوی طور پر اپنا کنٹرول کھو چکا ہے، جبکہ ایک ماہ قبل تک عمانی روٹ سے گزرنے والے جہازوں کی تعداد نہ ہونے کے برابر تھی۔
ایرانی روٹ پر بحری ٹریفک میں نمایاں کمی کے باعث تہران اب اس راستے سے گزرنے والے بحری جہازوں سے ٹول ٹیکس اور فیسیں وصول کرنے سے قاصر ہو گیا ہے جو وہ اس سے قبل باقاعدگی سے وصول کر رہا تھا۔ توانائی کے ماہرین کے مطابق مشرق وسطیٰ میں سرگرم بیشتر شپنگ کمپنیاں ایران کے مطالبات پر ٹول ادا کرنے سے گریزاں ہیں، جس کے باعث عمانی راستہ ان کے لیے سب سے محفوظ اور قابل عمل انتخاب بن کر سامنے آیا ہے۔
تاہم اس دعوے کے باوجود عملی طور پر آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمدروفت پرانی سطح سے بہت نیچے ہے۔ منگل کو صرف 6 جہاز عمان کے راستے سے گزرے۔ عرب نیوز کے مطابق خطرات کے سبب بحری جہاز آبنائے ہرمز سے گزرنے سے گریز کر رہے ہیں۔
دوسری جانب ایران اور عمان کے درمیان اس تزویراتی گزرگاہ میں نیویگیشن کے مستقل لائحہ عمل پر بات چیت جاری ہے اور تہران کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک مجوزہ جغرافیائی حدود پر متفق ہو چکے ہیں۔ علاقائی ذرائع کے مطابق زیر تجویز معاہدے کے تحت بحری جہاز ایران کے زیر کنٹرول راستے سے خلیج میں داخل ہوں گے اور عمانی راستے سے باہر نکلیں گے، جس کے عوض سیکیورٹی اور سمندری تحفظ کے نام پر فیس لی جائے گی، تاہم ایران کے اعلیٰ مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے دوٹوک موقف اختیار کیا ہے کہ جب تک امریکا بحری ناکہ بندی ختم نہیں کرتا، اس گزرگاہ کو باضابطہ طور پر نہیں کھولا جائے گا۔