تحفظات دور نہ کیے توحکومت کیساتھ تعاون نہیں کریں گے، بلاول بھٹو

شہباز شریف کے گرد لوگ ان کی کوششیں ناکام بنا رہے ہیں ،حکومت عمران خان کے علاج کا خود بندوبست کرتی، پریس کانفرنس

August 19, 2026 · اہم خبریں, قومی
فائل فوٹو

فائل فوٹو

اسلام آباد: پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ تحفظات دور ہونے تک ان کی جماعت قانون سازی پر حکمران جماعت مسلم لیگ ن کے ساتھ تعاون نہیں کرے گی۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ تاہم اگر کوئی ایسا قانون آ جائے جو قومی مفاد میں ہو‘ تو پیپلز پارٹی اس مخصوص معاملے پر تعاون کر بھی سکتی ہے۔

بلاول بھٹو کے مطابق پیپلز پارٹی کی پارلیمانی پارٹی کے ارکان اس بات کے لیے تیار نہیں ہیں کہ حکومت کے ساتھ تعاون کیا جائے اور نہ ہی مسلم لیگ ن نے پارٹی کے اعتراضات دور کرنے کے لیے رابطہ کیا ہے۔

پریس کانفرنس میں پیپلز پارٹی کے چیئرمین کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم شہباز شریف کی نیت ٹھیک ہے، وہ کام بھی کرنا چاہتے ہیں اور ہمارے تحفظات بھی دور کرنا چاہتے ہیں، لیکن ان کے ارد گرد کچھ ایسے لوگ ہیں جو وزیر اعظم کی کوششوں کو بار بار ناکام بنا دیتے ہیں۔

بلاول بھٹو نے ’اسٹیبلشمنٹ اور حکومت کے ایک پیج پر ہونے‘ سے متعلق سوال پر بھی تبصرہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پیج ایک ہو بھی سکتا ہے، لیکن دال میں کچھ تو کالا ہے۔ مجھے نہیں معلوم کہ وہ ہے کیا، لیکن کچھ تو ہے، اور وہ آج یا کل سامنے آ جائے گا۔

پریس کانفرنس میں بلاول بھٹو سے سوال میں ان کے بیان کا حوالہ دیا گیا جس میں انھوں نے کہا تھا کہ حکومت کی الٹی گنتی شروع ہو گئی ہے۔ چیئرمین پیپلز پارٹی سے پوچھا گیا کہ کیا وہ اِن ہاؤس تبدیلی لانا چاہتے ہیں؟

بلاول بھٹو کا جواب تھا کہ اس وقت میری توجہ اِن ہاؤس تبدیلی پر نہیں ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ پارلیمان فعال بنے۔‘

بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ نئے صوبوں کے حوالے سے جو قدم عوام کے اتفاق رائے سے اٹھایا جائے گا، پیپلز پارٹی اس کے ساتھ کھڑی ہو گی، تاہم زور زبردستی سے کوئی بات ہم نہ پہلے مانے ہیں، نہ آگے مانیں گے۔‘

عمران خان کو علاج کے لیے اسلام آباد کے شفا ہسپتال منتقل کرنے کے سپریم کورٹ کے فیصلے پر تبصرہ کرتے ہوئے بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ زیادہ بہتر ہوتا اگر سپریم کورٹ کو یہ حکم دینے کی ضرورت نہ پڑتی اور حکومت عمران خان کے علاج کا خود بندوبست کرتی۔

انھوں نے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں ہونے والے انتخابات کو بھی متنازعہ قرار دیا اور کہا کہ حکمران جماعت مسلم لیگ ن وہاں کے مسائل کا حل نہیں نکال سکے گی۔

پریس کانفرنس سے قبل بلاول بھٹو نے پیپلز پارٹی رہنماؤں کے ہمراہ قومی اسمبلی کے اپوزیشن چیمبر میں قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی اور سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر علامہ راجہ ناصر عباس سے ملاقات کی۔ ملاقات کے موقع پر پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، تحریک تحفظ آئین پاکستان کے سیکریٹری جنرل اسد قیصر اور دیگر رہنما موجود تھے۔