عمران پر توشہ خانہ کیس کے مرکزی گواہ عمر فاروق ظہورکے خلاف ناروے میں فراڈکیس ختم
پراسیکیوشن حکا م کی وارنٹس واپس لینے اور مطلوب افراد کی فہرست سےنام خارج کرنے کی ہدایت
تصویر: سوشل میڈیا
ناروے کی پراسیکیوشن اتھارٹی نے پاکستانی کاروباری شخصیت عمر فاروق ظہور کے خلاف مبینہ فراڈ کیس کو 16 سال بعد ختم کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ ان کے خلاف بے ضابطگی ثابت کرنے کے لیے کافی شواہد موجود نہیں۔
پراسیکیوشن نے متعلقہ حکام کو عمر فاروق ظہور کے خلاف جاری تمام وارنٹس واپس لینے اور مطلوب افراد کی فہرست سے ان کا نام خارج کرنے کی ہدایت بھی کردی ہے۔
عمر فاروق ظہور 2010 میں نورڈیا بینک کے خلاف کئی ملین ناروے کرونر کے مبینہ فراڈ کیس میں مطلوب تھے، تاہم وہ مسلسل ان الزامات کی تردید کرتے رہے۔ ان کا مؤقف تھا کہ مبینہ فراڈ 2010 میں ہوا اور وہ 2005 کے بعد ناروے گئے ہی نہیں ۔
ناروے کے حکام نے کیس میں متحدہ عرب امارات سے عمر فاروق ظہور کی حوالگی بھی طلب کی تھی، تاہم اماراتی حکومت نے شواہد کی کمی کے باعث درخواست مسترد کردی تھی۔
عدالتی دستاویزات کے مطابق 2010 میں تحقیقات شروع ہونے کے بعد عمر فاروق ظہور نے اپنے وکلا کے ذریعے حکام سے تعاون کیا تھا۔ بعد ازاں عمر فاروق ظہور کی جانب سے ناروے کے سینئر پراسیکیوٹر کارل گراف ہارٹمین کے خلاف ہتک عزت کی کارروائی شروع کیے جانے کے بعد حکام نے کیس کا دوبارہ جائزہ لیا۔چیف پراسیکیوٹر نے فائل موصول ہونے کے ایک ہفتے کے اندر مقدمہ ختم کرنے کا فیصلہ کیا۔
عمر فاروق ظہور نے مؤقف اختیار کیا کہ سینئر پراسیکیوٹر نے دائیں بازو کے اخبار VG کے ساتھ مل کر انہیں جھوٹے الزامات کا نشانہ بنایا۔ ان کے مطابق اخبار نے بھارتی عناصر کے ساتھ مل کر 16 سال سے زائد عرصے تک ان کے خلاف نسل پرستانہ، اسلام مخالف اور جانبدارانہ مہم چلائی۔
کیس ختم ہونے پر عمر فاروق ظہور نے کہا کہ ان کے مؤقف کو تسلیم کرنے میں 16 برس لگ گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ ہمیشہ سے یہ مؤقف اختیار کرتے رہے ہیں کہ انہیں نظام کے بعض عناصر کی جانب سے نشانہ بنایا گیا۔
انہوں نے مقدمہ ختم کرنے پر پراسیکیوٹر کا بھی شکریہ ادا کیا اور کہا کہ انہوں نے حقائق کا جائزہ لینے کے بعد کیس کو منطقی انجام تک پہنچایا۔
مئی 2023 میں اوسلو پولیس کے کلیئرنس لیٹر اور ایف آئی اے کی رپورٹ کی بنیاد پر عمر فاروق ظہور کو دو فراڈ اور ایک منی لانڈرنگ کے مقدمات میں بھی بری کردیا گیا تھا۔ یہ مقدمات 2020 میں ان کی سابق اہلیہ صوفیہ مرزا کی شکایات پر تحریک انصاف کے دور حکومت میں درج کیے گئے تھے۔
عمر فاروق نے ایک انٹرویومیں کہا تھا کہ انہوں نے 20 لاکھ ڈالر دے کر وہ گھڑی خرید لی تھی جو عمران خان کو سرکاری تحفے کے طور پر ملی تھی۔ انٹرویو میں عمر فاروق ظہور نے بتایا تھا کہ انہوں نے عمران خان سے 2019 میں ’گراف‘ کی گھڑی پر مشتمل سیٹ خریدا تھا۔ مذکورہ گھڑی سابق وزیراعظم کو ان کے پہلے سرکاری دورہ سعودی عرب کے دوران بطور تحفہ دی گئی تھی۔
عمر فارق ظہور نے کہا تھا کہ عمران خان کی اہلیہ کی دوست فرحت شہزادی نے عمران خان کی جانب سے گھڑی فروخت کی تھی۔ان کے مطابق انہوں نے اس گھڑی کے لیے 20 لاکھ ڈالر ادائیگی کی تھی اور فرحت شہزادی کا اصرار تھا کہ ادائیگی نقد کی جائے۔انہوں نے عمران خان کے دور کے مشیر احتساب شہزاد اکبر پر بھی اس فروخت میں ملوث ہونے کا الزام لگایا۔
عمران خان نے ردعمل میں ٹوئٹر پر اس الزام کو بے بنیادقراردیاتھا۔
سابق وزیراعظم نے ایکس پر لکھا کہ میری اپنے وکلا سے بات ہوئی ہے اور میرا پاکستان سمیت متحدہ عرب امارات اور برطانیہ میں قانونی کارروائی کرنے کا ارادہ ہے۔